بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/08/2026

دارالافتاء

 

مال متقوم کی تعریف اور خون بیچنے کا حکم


سوال

مال متقوم کس کو کہتے ہیں؟ اور کیا خون بیچنا جائز ہے؟

جواب

         کسی چیز کا اس طور پرقیمت والا ہونا  کہ اس کا کوئی مالی عوض مقرر ہو، اور کسی بھی چیز کا مال متقوم ہونے کے لیے اس میں دو صفتوں کا ہونا ضروری ہے : 1۔ تمول یعنی اس چیز کا مال ہونا۔ 2۔ شرعی طور پر اس سے انتفاع کا جائز ہونا۔ جو چیز مال متقوم نہیں ہوتی وہ دراصل کسی بھی مالی معاملے (خرید و فروخت) کو منعقد کرنے کے لیے درست نہیں ہو سکتی، نہ اس کی کوئی قیمت لگائی جا سکتی ہے اور نہ ہی مالیت، اگر کسی عقد میں اس طرح کی کوئی چیز پائی جائے تو وہ عقد ہی درست نہیں ہوگی۔

          صورت مسؤلہ کے مطابق خرید و فروخت کے معاملات میں مبیع کا مال متقوم  ہونا ضروری ہے اور خون چاہے انسان کا ہو یا جانور کا ،مال متقوم نہیں ہے ، اس لیے خون کا بیچنا ناجائز ہے۔ تاہم اگر کسی  کو علاج وغیرہ کے لیے خون کی ضرورت ہو تو ضرورت کے بنا پر خون دینا جائز ہے ۔

 

فإن المتقوم هو المال المباح الانتفاع به شرعا. (الدر المختار، کتاب البیوع، باب البیع الفاسد، ج:5، ص:50)

 بطل بيع ما ليس بمال كالدم والميتة. (الدر المختار علی صدر ردالمحتار،کتاب البیوع، باب البیع الفاسد، ج:7، ص:235)

وأما البيع الباطل وذلك نحو بيع الميتة والدم والعذرة والبول وبيع الملاقيح والمضامين وكل ما ليس بمال.(بدائع الصنائع، كتاب البيوع،  فصل في خيار الرؤية، ج:5، ص:305)


فتویٰ نمبر : 3046/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں