بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

قربانی کے جانور کو گولی سے مارنے کے بعد قربانی کاحکم


سوال

ایک جانورذبح کرنے کی جگہ سے بھاگ گیا جس کا  قابو کرنا مشکل تھا،پھراس قربانی میں شریک ایک آدمی نے اس جانور کو گولی مار دی اور وہ اس کے سر پر لگنے کے بعد گہرا زخم پیدا ہواجس کی وجہ سے وہ ذبح سے پہلے مرگیا تو کیا شرعا یہ قربانی ادا ہوئی یا نہیں ؟

جواب

               واضح رہے کہ جو جانور بدک کر قابو میں نہ  رہےذبح کے حوالے سے ایسےجانور کے حلال ہونے کے لیے کسی خاص رگ یا نالی کا کٹنا ضروری نہیں ،بلکہ جسم کے کسی حصے میں بھی ممکن ہو دھاری دار چیزسے  زخم لگا یا جا ئے جس سے خون بہہ جا ئے ۔اگر ایسے زخم سے وہ جانور مر جائے تو شکار کی طرح حلال ہے ، البتہ زخم لگانے کے بعد اگر وہ قابو میں آجائےتو پھرشرعی طریقے سے  ذبح کرنا ضروری ہے۔ایسی صورت میں اگر ذبح نہیں نہ کیا اور جانور مر گیا  تو وہ حرام ہوجاتی ہے۔

               لہذا صورت مسئولہ کے مطابق  اگر ایسا جانور جس کا قابو کرنا مشکل ہو اور وہ ذبح کرنے کی جگہ سے بھاگ جائے اور ان شرکا میں سے کسی شریک نے اس جانور کو گولی سے مار دی، جس سے  جانورزخمی ہوا یہاں تک کہ اس جانور تک رسائی سے پہلے وہ جانور مر گیا تو بندوق کی گولی چونکہ زور کے ذریعے جانور کے بدن کوپھاڑتی ہے لہذا اس صورت میں دھاری دار چیز سےزخم نہ پائے جانےکی وجہ سےشرکا کی یہ قربانی جائز نہ رہے گی۔ایسا ہی اگر جانور کو قابو کرنا مشکل نہ ہو بلکہ آسانی سےاسے قابو کیا جا سکتا ہو مگر پھر بھی اس پر گولی چلا کر اسے مارا جائےتو اس سے پیدا ہونے والےعیب کے ہوتے ہوئےقربانی جائز نہ ہوگی۔

 

ولا يحل صيد البندقة و الحجر و المعراض و العصا و ما أشبه ذلك و إن خرق ذلك لأنه لا يخرق إلا أن يكون شيء من ذلك قد حدد و طوله كالسهم و أمكن أن يرمي به فإن كان كذلك و خرقة بحده حل أكله * فأما الجرح الذي يدق في الباطن ولا يخرق في الظاهر لا يحل لأنه لا يحصل انهار الدم(قاضي خان ،كتاب الصيد و الذبائح،ج3،ص255)

وأما الاضطرارية فركنها العقر وهو الجرح في أي موضع كان وذلك في الصيد، وكذلك ما ند من الإبل والبقر والغنم بحيث لا يقدر عليها صاحبها لأنها بمعنى الصيد، وإن كان مستأنسا، وسواء ند البعير والبقر في الصحراء أو في المصر فذكاته العقر۔(الفتاوي الهندية كتاب الذبائح ،الباب الأول في ركن الذبح وشرائطه،ج5،ص328)


فتویٰ نمبر : 9183/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں