بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

کہنی تک آستین چڑھا کر نماز پڑھنا


سوال

اگر نماز میں آستین چھڑائے  ہوئے  کہنیاں کھلی ہو اور پوری نماز اس طرح ادا کی جائے تو کیا نماز درست ہے یا نہیں؟ نیز رکعت فوت ہونے کے خوف سے آستینوں کا نیچے کیے بغیر نماز میں شامل ہونا کیسا ہے؟

جواب

          واضح رہے کہ اگر آستین اتنی اوپر چڑھائی ہوں کہ کہنیاں بھی کھل جائیں، تو شرعاًاس سے نماز میں کراہت آتی ہے، اس لیے  وضو سے فارغ ہونے کے بعد آستین درست کر کے ہی نماز میں شامل ہونا چاہیے ،چاہے رکعت نکلنے کا اندیشہ ہی کیوں نہ ہو ۔اور اگر رکعت نکل جانے کے خوف سے آستین نیچے کیے بغیر  جماعت میں شامل ہو گیا اور کہنیاں کھلی رہ گئیں تو نماز کے دوران عملِ  کثیر کے بغیر آستین نیچے کر لینی چاہیے۔  اور اس کی صورت یہ ہے کہ ایک ہی رکن میں دونوں آستینیں نیچے نہ کرے، بلکہ مختلف ارکان کی ادائیگی میں حتی الامکان کم سے کم عمل کے ذریعے نیچے کردے، تو عملِ  قلیل کی وجہ سے نمازمکروہ نہیں ہوگی۔

 

‌ولو ‌صلى ‌رافعا كميه إلى المرفقين كره. كذا في فتاوى قاضي خان ۔(الفتاوى الهندية، كتاب الصلوة، الفصل الثاني فيما يكره في الصلاة وما لا يكره، ج:1، ص:106)

(قوله كمشمر كم أو ذيل) أي كما لو دخل في الصلاة وهو مشمر كمه أو ذيله، وأشار بذلك إلى أن الكراهة لا تختص بالكف وهو في الصلاة كما أفاده في شرح المنية، لكن قال في القنية: واختلف فيمن صلى وقد شمر كميه لعمل كان يعمله قبل الصلاة أو هيئته ذلك اهـ ومثله ما لو شمر للوضوء ثم عجل لإدراك الركعة مع الإمام. وإذا دخل في الصلاة كذلك وقلنا بالكراهة فهل الأفضل إرخاء كميه فيها بعمل قليل أو تركهما؟ لم أره: والأظهر الأول بدليل قوله الآتي ولو سقطت قلنسوته فإعادتها أفضل تأمل. هذا، وقيد الكراهة في الخلاصة والمنية بأن يكون رافعا كميه إلى المرفقين. وظاهره أنه لا يكره إلى ما دونهما. )رد المحتار على الدر المختار، ‌‌باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج:1، ص:640)


فتویٰ نمبر : 9164/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں