بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

تكبیرات انتقالیہ کی تعریف اور وقت


سوال

تکبیراتِ انتقال کسے  کہتے  ہیں اور اس کا وقت کب سے کب تک ہوتا ہے؟

جواب

            تکبیراتِ انتقال نماز میں  ایک رُکن سے دوسرے رُکن کی طرف منتقل ہونے کی تکبیرات کو کہتے ہیں ، تکبیرات ِ انتقال کا طریقہ اور اس کا وقت یہ ہے کہ ہیئت  تبدیل کرتے ہوئے تکبیر کہے اور جب دوسرے رکن کی ہیئت تک پہنچے تو پہنچنے پر تکبیر ختم کرے،یعنی ایک رکن سے دوسرے رکن میں منتقل ہونے کے درمیانی عرصہ کے اندر اداکی جائے ،مثلا ً رکوع کےلیے جھکنے کی ابتدا  میں ’’اللہ اکبر ‘‘ کی ابتدا  ہو اور رکوع میں پہنچتے ہی  اس کی انتہا  ہوجائے ۔

 

(‌قوله ‌ثم ‌يكبر) ‌أتى ‌بثم ‌للإشعار بالاطمئنان فإنه سنة أو واجب على ما اختاره الكمال (قوله مع الخرور) بأن يكون ابتداء التكبير عند ابتداء الخرور وانتهاؤه عند انتهائه شرح المنية۔( رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلوة، ‌‌باب صفة الصلاة، ج:1، ص:498)

(‌ويركع ‌حين ‌يفرغ ‌من ‌القراءة ‌وهو ‌منتصب) ‌هو ‌المذهب ‌الصحيح. ‌كذا ‌في ‌الخلاصة ‌في ‌الجامع ‌الصغير ‌ويكبر ‌مع ‌الانحطاط. ‌كذا ‌في ‌الهداية ‌قال ‌الطحاوي ‌وهو ‌الصحيح ‌كذا ‌في ‌معراج ‌الدراية ‌فيكون ‌ابتداء ‌تكبيره ‌عند ‌أول ‌الخرور ‌والفراغ ‌عند ‌الاستواء ‌للركوع۔ (الفتاوى الهندية،كتاب الصلوة، الفصل الثالث في سنن الصلاة وآدابها وكيفيتها، ج:1، ص:74)


فتویٰ نمبر : 9166/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں