بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

صلاۃ تسبیح توڑنے کے بعد نفل نماز پڑهنا


سوال

اگر کسی شخص نے"صلاۃ تسبیح "شروع کرکے توڑدی تو کیا اس پردوبارہ صلاۃ تسبیح پڑھنا واجب ہےیا دو رکعت نفل نماز پڑھنے سے واجب ادا ہوجائے گی؟

جواب

            شریعت مطہرہ کی رو سے نفل نماز شروع کرنے سے پہلے واجب اور فرض  نہیں ہوتی،تاہم اگر کسی شخص نےنفل نماز شروع کرکے توڑ دی تو اس کی قضاواجب  ہوگی۔تاہم اگر کوئی چار رکعت کی نیت باندھ کر نفل نماز شروع کرے اور دو رکعت پڑھ کر تشہد کے بعد سلام پھیر دے تو اس پر باقی نماز کی قضا واجب نہیں کیونکہ اس نے ابھی تک دوسرا شفعہ شروع نہیں کیا تھا ،لیکن اگر دوسرا شفعہ  شروع کرےاور پورے ہونے سے پہلے درمیان میں سلام پھیر دے تو اس پر آخری دو رکعت کی قضا واجب ہوگی ۔ 

          صورت مسؤلہ کے مطابق "صلاۃ تسبیح" چونکہ نفل نماز ہےاور نفل نماز کا ہر شفعہ یعنی دورکعت مستقل نماز شمار ہوتی ہے،لہذا اگر کوئی  شخص صلاۃ تسبیح مکمل کرنے سے پہلے توڑ دے تو اس پر صرف دو رکعت نفل نماز کی قضا لازم ہوگی۔

 

(ولزم نفل شرع فيه قصدا)أي لزم المضي فيه،حتي إذا أفسده لزم قضاؤه:أي قضاء ركعتين و إن نوی أكثر۔۔۔(والأصل أن كل شفع الصلاة)أي فلا يلزم بتحريمة النفل أكثر من ركعتين و إن نوی أكثرمنهما۔(الدرالمختار مع رد المحتار،كتاب الصلاة،باب الوتر والنوافل،ج:2،ص:474،478)                                   


فتویٰ نمبر : 9201/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں