بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/10/2026

دارالافتاء

 

نکاح کو تین متفرق طلاقوں کے ساتھ معلق کرنا


سوال

اگر کوئی شخص  کسی عورت کو اس طرح کہے کہ "اگر میں نے تجھ سے نکا ح کیا  تو تجھے طلاق "،"اگر میں نے تجھ سے نکا ح کیا  تو تجھے طلاق "،"اگر میں نے تجھ سے نکا ح کیا  تو تجھے طلاق "یہ الفاظ تین مرتبہ متفرق طور پر کہہ  دیے بعد میں دونوں نے نکاح کیا توبیوی پر کتنے طلاق واقع ہوں گی؟

جواب

               اگر کوئی  شخص طلاق کی نسبت نکاح  کی طرف کرے تو جب بھی وہ شخص اس عورت کے ساتھ  نکاح کرے گا تو شرط پائے جانے کی وجہ سے اس کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہو گی،نیزمتفرق طور پر نکاح کے ساتھ تین طلاقوں کو معلق کرنے کی صورت میں پہلی طلاق کے ساتھ وہ عورت  بائنہ ہو جائے گی اور دوسری،تیسری طلاق کا  محل باقی نہ رہنے کی وجہ سے لغو ہو جائے گی ۔

              لہذا صورت مسئولہ میں اگرمذکورہ شخص نے طلاق کو نکاح کے ساتھ معلق کیا ہو تو جب وہ اس عورت کے ساتھ نکاح کرے گا تو اس  پر طلاق بائن واقع ہو جائے گی اور دوسری، تیسری طلاق  کا محل باقی نہ رہنے کی وجہ سے لغو ہو جائیں گی،لہذا دوباره باہمی رضامندی سےتجدید نکاح كے ساتھ ازدواجی تعلقات استوار کیے جا سکتے ہیں۔

 

إذا أضاف الطلاق إلى النكاح وقع عقيب النكاح نحو أن يقول لامرأة: إن تزوجتك فأنت طالق أو كل امرأة أتزوجها فهي طالق (الفتاوي الهندية،كتاب الطلاق الفصل الثالث في تعليق الطلاق،ج1،ص488)

(وإن فرق بانت بالأولى) لا إلى عدة (و) لذا (لم تقع الثانية) بخلاف الموطوءة حيث يقع الكل۔(الدرالمختار علی صدر رد المحتار،كتاب الطلاق، باب طلاق غير المدخول بها،ج4،ص509،512)

قال: إن تزوجت فلانة فهي طالق فتزوجها مرة فطلقت ثم إذا تزوجها أخرى لا يقع۔(الفتاوي الهندية، كتاب الطلاق،الفصل الثالث في تعليق الطلاق بكلمة إن،ج1،ص494)


فتویٰ نمبر : 6446/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں