بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

ایک شخص کی زمین پردوسرے کی دکانیں بنا کردونوں کا منافع لینا


سوال

ایک شخص کی زمین میں دوسرا شخص   دکانیں تعمیر کرتا ہے جس کا  کرایہ دونوں کے درمیان 50 فیصد کے تناسب  سے تقسیم ہوگا۔ اور مالک زمین اس شرط پر دیتا ہے کہ تین سال بعد دکانیں زمین کے مالک کی ہو جائیں گی، کیا اس طرح معاملہ کرنا شرعا جائز ہے؟

جواب

             واضح رہے کہ اگر ایک شخص کی زمین ہواور دوسرا شخص اس پر اپنے سرمایہ سے اس طور پر عمارت تعمیر کرنا چاہے کہ عمارت کا مالک سرمایہ کار ہو گا  پھر دونوں مل کر اُسے مخصوص مدت تک کرایہ پر دیں گےاور اس سے حاصل ہونے والا کرایہ دونوں آپس میں تقسیم کریں گے تو شرعاًیہ جائز ہے، البتہ عمارت کا مالک چونکہ سرمایہ کا رہے ،اس لیے اس میں کسی حادثہ وغیرہ کی وجہ سے کوئی نقصان پید اہو جائے تواس کا تاوان عمارت کا مالک ہی برداشت کرے گا ۔پھر کچھ مدت کے بعد اگر دونوں یا دونوں میں سے کوئی ایک اس معاہدے کو ختم کرنا چاہے ،تواس کے لیے دو طریقے ممکن ہيں:

1۔عمارت کا مالک اپنی عمارت کو ہٹا کر زمیں خالی کر دے۔

2۔طرفین کی رضامندی سے یا مارکیٹ ریٹ کے مطابق قیمت طے ہو جائے اور مالکِ زمین وہ قیمت عمارت کے مالک کو اد اکر کے عمارت کا مالک بن جائے ۔

             صورت مسؤلہ  کے مطابق  اگر ایک شخص  دوسرے کی زمین  پردکانیں  تعمیر کرتا ہےجس کا کرایہ دونوں کے درمیان پچاس فیصد کے تناسب سے مشترک ہو گا توشرعاً یہ جائز ہے اور اس کے بعد جب مالکِ زمین اس عمارت کو خریدنا چاہے تو باہمی رضامندی سے قیمت  طے کر کے عقد کر لیں گے  ۔تا ہم   عقد کی ابتدا  میں  یہ شرط لگانا کہ تین سال بعد دکانیں زمین کے مالک کی ہو جائیں گی،شرعاً جائز نہیں ہے۔

 

(و) تصح إجارة أرض (للبناء والغرس) وسائر الانتفاعات كطبخ آجر وخزف ومقيلا ومراحا حتى تلزم الأجرة بالتسليم أمكن زراعتها أم لا بحر (فإن مضت المدة قلعهما وسلمها فارغة) لعدم نهايتهما (إلا أن يغرم له المؤجر قيمته) أي البناء والغرس (مقلوعا) بأن تقوم الأرض بهما وبدونهما فيضمن ما بينهما اختيار (ويتملكه) بالنصب عطفا على " يغرم "؛ لأن فيه نظرا لهما. قال في البحر: وهذا الاستثناء من لزوم القلع على المستأجر، فأفاد أنه لا يلزمه القلع لو رضي المؤجر بدفع القيمة لكن إن كانت تنقص بتملكها جبرا على المستأجر وإلا فبرضاه (أو يرضى) المؤجر عطفا على " يغرم " (بتركه) أي البناء والغرس (فيكون البناء والغرس لهذا والأرض لهذا) وهذا الترك إن بأجر فإجارة وإلا فإعارة، فلهما أن يؤاجراهما لثالث ويقتسما الأجر على قيمة الأرض بلا بناء وعلى قيمة البناء بلا أرض، فيأخذ كل حصته۔(الدر المحتار،كتاب الإجارة،ج:9،ص:41)

 (تفسد الإجارة بالشروط المخالفة لمقتضى العقد فكل ما أفسد البيع) مما مر (يفسدها) كجهالة مأجور أو أجرة أو مدة أو عمل، وكشرط طعام عبد وعلف دابة ومرمة الدار أو مغارمها وعشر أو خراج أو مؤنة رد۔(الدر المختار على صدر رد المحتار،باب الإجارة الفاسدة،ج:6،ص:46)


فتویٰ نمبر : 3064/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں