بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

قربانی کے لئے ایک دنبہ میں دو آدمیوں کا شریک ہونا


سوال

زید اور بکر دونوں صاحب نصاب نہیں ہیں انہوں نے مشترکہ طور پرایک دنبہ خریدا ،دونوں کا اس چھوٹے جانور میں حصہ ڈالنا قربانی کے حکم میں آتا ہے یا نہیں؟ نیز دونوں اگر اس کو ایام نحر میں ذبح کرے تو ان کو قربانی کا ثواب ملے گا یا نہیں؟

جواب

              شریعت مطہرہ نے قربانی کے جانوروں  میں شرکت کے اعتبار سے مخصوص  تعداد کی اجازت دی ہے چنانچہ بکرا ،بکری ،بھیڑاور دنبہ میں  صرف ایک قربانی ہوسکتی ہے ۔ اگر ایک سے زائد آدمی شریک ہوجائے  توشرعا اس سے قربانی درست نہیں ہوتی ،البتہ اگر  دو آدمیوں  نےمشترکہ طور پرمذکورہ جانوروں میں سے کسی جانور کو ایام نحر میں ذبح کیا  تو ان دونوں کونفلی صدقہ کا ثواب ملے گا۔

 

يجب أن يعلم أن الشاة لا تجزى إلا عن واحد وإن كانت عظيمة۔(كتاب الأضحية،فيما يتعلق بالشركة في الضحايا،ج:5،ص:351)

في أضاحي الزعفراني: اشترى سبعة نفر سبع شياه بينهم أن يضحوا بها بينهم، ولم يسم لكل واحد منهم شاة بعينها فضحوا بها؛ كذلك فالقياس: أن لا يجوز.وفي الاستحسان: يجوز؛ فقوله اشترى سبعة نفر سبع شياه بينهم؛ يحتمل شراء كل شاة بينهم، ويحتمل شراء سبع شياه على أن يكون  لكل واحد منهم شاة، ولكن لا يعينها، فإن كان المراد هو الثاني، فما ذكر من الجواب باتفاق الروايات؛ لأن كل واحد منهم يصير مضحياً بشاة كاملة، وإن كان المراد هو الأول فما ذكر من الجواب على إحدى الروايتين، فإن الغنم إذا كانت بين رجلين ضحيا بها ذكر في بعض المواضع: أنه لا يجوز.(المحيط البرهاني في فقه النعماني،كتاب الأضحية،ج:6،ص:487،488)


فتویٰ نمبر : 9169/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں