بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 26/10/2026 |
دارالافتاء
مشترك جانور كو اپنی شريك كے اجازت كے بغير قربانی كے ليے ذبح كرنا
سوال
دو آدمیوں نے مشترك طور پر ایک دنبہ خریدا جبکہ دونوں صاحب نصاب نہیں تھے بعد ميں ايك كو معلوم کہ اس کی بیوی صاحب نصاب ہےچنانچہ اس نے اپنے شریک کے اجازت کے بغیر خریدی ہوئی دنبہ کو ایام نحر میں اپنی بیوی کی طرف سےذبح کیا تو کیا اس سے بیوی کی طرف سے واجب قربانی ادا ہوگئی یا نہیں؟ اگر قربانی سے پہلے یا بعد میں شریک آخر راضی ہوجائے تو پھر کیا حکم ہے؟
جواب
واضح رہے کہ مشترک چیز میں شریک آخر کے حصہ میں اس کے اجازت کے بغیر تصرف کرنا جائز نہیں ہے البتہ اگر کسی نے شریک آخر کے اجازت کے بغیر تصرف کیا اور بعد میں شریک نے اجازت دی تو جائز ہے۔
لہٰذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر ایک دنبے میں دو آدمی شریک ہوں اور کسی ایک نے اپنی طرف سے قربانی کرلی اور وہ صاحب نصاب نہ ہوتو یہ اس کی طرف سے نفلی قربانی ہوگی اگر دوسرے شریک نے اجازت دیدی تو ٹھیک ہے ورنہ دوسرے شریک کے لیے اس کے حصے کی قیمت اس پر لازم ہوگی ۔اوراگر قربانی کے دنوں میں ایک شریک کی بیوی پر قربانی لازم تھی اور وہ بیوی کی طرف سے وکیل بن کر شریک آخر کے اجازت سے اس کو بیوی کی جانب سے ذبح کرے،اجازت پہلے دے یا بعد میں دونوں صورتوں میں قربانی جائز ہوگی۔
في المنتقى لو غصب أضحية غيره وذبحها عن نفسه وضمن القيمة لصاحبها أجزأه ما صنع؛ لأنه ملكها بسابق الغصب، كذا في الخلاصة.لو غصب من رجل شاة فضحى بها لا يجوز، وصاحبها بالخيار إن شاء أخذها ناقصة وضمنه النقصان، وإن شاء ضمنه قيمتها حية، فتصير الشاة ملكا للغاصب من وقت الغصب فتجوز الأضحية استحسانا، وكذا لو اشترى شاة فضحى بها ثم استحقها رجل، فإن أجاز البيع جاز، وإن استرد الشاة لم يجز، كذا في شرح الطحاوي.(الفتاوى الهندية،في التضحية عن الغير،ج:5،ص:302)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں