بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

ولی کی اجازت کے بغیر ہونے والے نکاح میں گواہ بننا


سوال

ولی کی اجازت کے بغیر اگر کوئی نکاح ہو رہا ہواور آدمی یہ جانتا ہو کہ یہ ولی کی اجازت کے بغیر ہورہاہے تواس آدمی کے لئے اس نکاح کا گواہ بننا کیسا ہے؟

جواب

         واضح رہے کہ عاقلہ بالغہ لڑکی  اگرولی کی اجازت کے بغیر  گواہوں کی موجودگی میں باقاعدہ ایجاب وقبول کےساتھ نکاح کرلے تو نکاح ہوجاتا ہے،تاہم اگر غیر کفو میں ہو توعدالت کے ذریعے ولی کو نکاح فسخ کرنے کاحق حاصل ہوتا ہے،جہاں تک نکاح میں گواہ بننے کامسئلہ ہے تو شرعا کسی پر یہ لازم نہیں کہ وہ  نکاح  میں گواہ بنے اگر مطمئن نہیں ہے تو نکاح کی مجلس میں حاضر نہ ہوتاکہ گواہ نہ بنے۔

           لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق اگر مذکورہ شخص ولی کی اجازت کے بغیر ہونے والے نکاح میں گواہ بننا نہیں چاہتا تو نکاح کی مجلس میں حاضر ہونے سے اجتناب کرے اگر مجلس میں حاضر ہوا اور اس کے سامنے عقد نکاح ہوا تو وہ خود بخود گواہ شمار ہوگا۔      

 

قال اللہ تعالی:﴿وَلَا يُضَارَّ كَاتِبٌ وَلَا شَهِيدٌ وَإِنْ تَفْعَلُوا فَإِنَّهُ فُسُوقٌ بِكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللَّهُ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍعَلِيمٌ﴾ (البقره:282)

قوله (من نكحت غير كفء فرق الولي) لما ذكرنا، وهذا ظاهر في انعقاده صحيحا وهو ظاهر الرواية عن الثلاثة فتبقى أحكامه من إرث وطلاق وقدمنا أنه يشترط في هذه الفرقة قضاء القاضي۔(البحر الرائق،كتاب النكاح،فصل في الأكفاء في النكاح،ج:3،ص:137)

 (الشهادة فرض) : أي أداؤها وتحملها إذا تعين، وفرض كفاية إذا لم يتعين بالإجماع،(تلزم الشهود، ولا يسعهم كتمانها إذا طالبهم المدعي)وقوله: لا يسعهم، تأكيد لقوله يلزم الشهود م: (لقوله تعالى: {ولا يأب الشهداء إذا ما دعوا} [البقرة: 282]، (البقرة الآية: 282) هذا دليل على أن الطلب من المدعي شرط الفريضة، والنهي عن الإباء عند الدعوى أمر بالحضور للأداء.(البناية شرح الهداية،كتاب الشهادة،ج:9،ص:100)


فتویٰ نمبر : 6432/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں