بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بھینس کی قربانی کا حکم


سوال

بھینس کی قربانی کا جواز کہاں سے ثابت ہےجب کہ آپﷺ کے زمانے میں بھینس موجود نہ تھی؟

جواب

              شریعت مطہرہ کی رو سے  گائے کی طرح بھینس کی قربانی  بھی جائز ہے،ایک آدمی سے لے کر سات آدمیوں تک اس میں شریک ہو سکتے ہیں ،البتہ روایات میں  کہیں  آپﷺ  سے بھینس کی قربانی کا کوئی ثبوت ہمیں نہیں ملا ،تاہم صحابہ رضی اللہ عنہم کے آخری دور میں اورتابعین رحمھم اللہ کے زمانے میں ان علاقوں میں اسلام پہنچا جہاں بھینس پائی جاتی تھی،چنانچہ اس کے بعد اجلہ تابعین نے وجوب زکوۃ اور قربانی کی احکامات میں بھینس کوگائے کے  زمرے میں شامل کیاہے،چنانچہ " مصنف ابن ابی شیبہ" میں حضرت حسن بصری رحمہ اللہ  کا قول منقول ہے جس میں بھینس  کو گائے کا قائم مقام قرار دیاہے، اسی طرح "مصنف عبد الرزاق"  میں  سفیان  ثوری نے یونس تابعی سےایک روایت کے مختصر حصے میں بھینس کو گائے کے ساتھ شمار کیا ہے اسی طرح فقہا کی عبارات  میں بھی   زکوۃ اور قربانی  کے اعتبار سےبھینس کو گائے کا قائم مقام ٹھہرایاگیا ہے،چنانچہ "فتاوی تاتارخانیہ"میں ہےکہ بھینس کی قربانی سات  افراد کی طرف سے جائز ہے ،اسی طرح "بدائع الصنائع" میں ہےکہ بھینس گائے کی نوع میں سے ہے اس لیے کہ بھینس کو زکوۃ کے باب میں گائے اور بکریوں کے ساتھ ملایا جاتاہے،خلاصہ یہ کہ تابعین کے اقوال اور فقہا کی تصریحا ت کے مطابق بھینس وجوب زکوۃ اور قربانی  کے مسائل میں گائے کے قائم مقام  قرار دیا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بھینس کا دودھ اور گوشت خوردونوش میں استعمال کیا جاتا ہے حالانکہ احادیث میں  بھینس کے دودھ اور گوشت کا تذکرہ  بھی نہیں پایا جاتا۔

         صورت مسولہ کے مطابق بھینس کی قربانی اگر چہ بذات خود آپﷺ سے ثابت نہیں،  تاہم تابعین کے اقوال اور فقہاےکرام کی تصریحات سے بھینس کی قربانی  کا جوازثابت ہے۔

 

عن الحسن ، أنه كان يقول : الجواميس بمنزلة البقر. (المصنف لإبن أبي شيبة، كتاب الزكوة، في الجواميس تعد في الصدقة، رقم :10848، ج:7، ص:65)

عن الثوري، عن يونس قال:۔۔۔ وتحسب الجوامیس مع البقر۔ (مصنف عبد الرزاق، باب البقر، رقم:6851، ج:4، ص:24)

والجاموس نوع من البقر بدليل أنه يضم ذلك إلى الغنم والبقر في باب الزکوۃ۔ ( بدائع الصنائع، کتاب التضحیة، فصل فی محل إقامة الواجب، ج:6، ص:298)

ويجزى الجاموس في الأضحية عن سبعة۔ (التاتارخانية، كتاب الأضحية، الفصل ما يجوز من الضحايا،  ج:17، ص:434)


فتویٰ نمبر : 9152/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں