بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قتل ِ عمد کی مصالحت میں واجب الادادین کاحکم


سوال

قتل عمد کی صلح کے سلسلے میں واجب شدہ  دین مانع زکوۃ ہے یا نہیں؟

جواب

                شریعت مطہرہ کی رو سے ہر وہ دین  جس کا مطالبہ بندوں کی طرف سے کیا جاتاہو،مانع زکوۃ ہے،چا ہےدین کی ادائیگی فی الحال ہو یاتاخیر کے ساتھ ہو۔

            صورت مسؤلہ کے مطابق قصاص کے عوض  واجب شدہ  دین مانع زکوۃ ہے،اس دین کو مال زکوۃ سےمنہا  کیا جائے گا، اس کے بعدجو  مال باقی رہ جائے اگر نصاب کے بقدر ہو یا اس  سے زیادہ ہو تو اس مال میں زکوۃ  کی ادائیگی واجب ہوگی۔

 

 (ومنها الفراغ عن الدين) قال أصحابنا - رحمهم الله تعالى -: كل دين له مطالب من جهة العباد يمنع وجوب الزكاة سواء كان الدين للعباد كالقرض وثمن البيع وضمان المتلفات وأرش الجراحة، وسواء كان الدين من النقودأو المكيل أو الموزون أو الثياب أو الحيوان وجب بخلع أو صلح عن دم عمد، وهو حال أو مؤجل  ۔(الهندية، كتاب الزكوة، الباب الأول في تفسيرها،وصفتها،وشرائطها، ج:1، ص:234)


فتویٰ نمبر : 9156/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں