بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نسوار فروش کا ذبیحہ


سوال

 نسوار فروش کا ذبیحہ جائز ہے یا نہیں؟

جواب

               شریعت مطہرہ کی رو سے اگر ذبحہ کرنے والا عاقل ،مسلمان ہو، ذبحہ کرتے وقت تسمیہ پڑھا ہو، نیز ذبحہ کرتے وقت غیر اللہ کا نام  نہ لیا ہو  تو ایسی صورت میں اس کا ذبیحہ جائز ہے،چاہے ذبحہ کرنے والا مرد ہو یا عورت،پاک ہو یا ناپاک،عادل ہو، یا گناہ گار؛ان تمام صورتوں میں اس  کا ذبیحہ کھانا شرعاً جائز ہے۔

             صورت مسؤلہ کے مطابق نسوار فروشی کوئی ایسا عمل نہیں جس کی وجہ سے کسی کی ایمان واسلام پر اثر پڑتا ہے،اس لیے اگر وہ  مسلمان ہواور ذبح کے شرائط اس میں موجود ہوتواس کا ذبیحہ حلال ہے۔

 

(وشرط  كون الذابح مسلما حلالا۔۔۔ (لا) تحل (ذبيحة) غير كتابي۔۔۔ (وتارك تسمية عمدا)۔۔۔ (ذكر مع اسمه) تعالى (غيره)۔ (تنوير الأبصار مع ردالمختار، كتاب الذبائح،ج:9، ص:427)


فتویٰ نمبر : 5024/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں