بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

مدرس كے ليے مدرسے كا پانی استعمال كرنا


سوال

دینی مدرسے کا ایک مدرس جو غیر رہائشی ہو صرف اسباق کی تدریس کے لیےمدرسے کو آتا  ہو ،وہ اس مدرسے کےپانی موٹرسائیکل کی صفائی کے لیے استعمال کرسکتاہے یا نہیں،نیز یہ مدرس مدرسےکے پانی سےغسل(تبرید،اورصفائی کے لیے)کرسکتا ہے یا نہیں؟

جواب

               واضح رہے کہ مہتمم مدرسے کا منتظم اور  ذمہ دار ہوتا ہےاس لیے اس کے پاس اختیار ہوتا ہےوہ طلبا کے مفاد کو سامنے رکھ کر امور طے کرتا ہے،تو جو کام ایسے ہوں جن سے طلبا کے مفاد متاثر ہوتے ہوں ان پر پابندی لگا سکتے ہیں اور  جن سے طلبا کے مفاد متاثر نہیں ہوتےتو مدرسہ کے مفاد کے خاطر اس کی اجازت دے سکتے ہیں،چنانچہ اگر کوئی مدرس مدرسہ کے پانی سے موٹر سائیکل وغیرہ کو دھلانا چاہےنیزمدرسہ کے منتظمین نے کوئی پابندی نہیں لگائی ہو تو اس کا استعمال جائز ہے۔

            صورت مسؤلہ میں چونکہ عادتاًمدرسہ  کے منتظمین  کی طرف سے  مدرس کے لیے موٹر سائیکل  کی صفائی یا غسل (چاہےتبرید کے لیے ہو یا صفائی  کے لیے )پانی کےاستعمال کی اجازت ہوتی ہےاس لیے اس کےاستعمال میں گنجائش ہے ۔

 

والذي يبدأ به من ارتفاع الوقف أي من غلته عمارته شرط الواقف أولا ثم ما هو أقرب إلى العمارة، وأعم للمصلحة كالإمام للمسجد، والمدرس للمدرسة يصرف إليهم إلى قدر كفايتهم، ثم السراج والبساط كذلك إلى آخرالمصالح۔(الدرالمختار مع ردالمحتار،كتاب الوقف، مطلب:فی وقف المنقول قصداً، ج:4، ص:367)


فتویٰ نمبر : 5023/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں