بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

غنی کا قربانی کے بيمار جانور کو بیچ کر دوسرا جانور خریدنا


سوال

ایک  شخص نے قربانی کا جا نورايك لاكھ پچاس ہزار روپے میں   خریدااور  پھر اس میں بیماری پیدا ہو جانے کے بعد چالیس ہزار روپے پر فروخت کرلیا تو اس شخص  کےذمہ پر قربانی کے لیے دوسرا جانور خریدنا لازم ہو گا یا نہیں ؟ اور اگر دوسرا جانور پہلے سے کم قیمت پر خرید لے تو اس کا کیا حکم ہو گا؟

جواب

        واضح رہے کہ اگر صاحب نصاب شخص نے قربانی کی نیت سے جانور خریدا ہو تواس کے لیے جانور تبدیل کرنے کی گنجائش ہے کہ اس جانور کے بدلے دوسرے جانور کی قربانی کرے اور اگر دوسرا  جانور پہلے جانور سے قیمت میں کم ہو تو شرعاًصاحب نصاب شخص پر باقی ماندہ رقم کو صدقہ کرنا لازم نہیں ۔

         صورت مسؤلہ کے مطابق اگر صاحب نصاب شخص نے قربانی کا جانورایک لاکھ پچاس ہزار روپے پر خرید ا ہو اور  پھر اس میں بیماری پیدا ہو جانے کے بعد چالیس ہزار روپے پر فروخت کیا ہو نیز اب بھی صاحب نصاب ہو تو ایسے شخص  کےذمہ پر قربانی کے لیے دوسرا جانورخریدنا لازم ہو تا ہے تاہم اگر دوسرا جانور پہلے سے کم قیمت پر خریدےتو کوئی حرج نہیں ہے اوراس پر لازم نہیں ہے کہ پہلے جانور کی قیمت کے برابر دوسرا جانور خریدے۔

 

وبالشراء بنية الأضحية إن كان المشتري غنيا لا يجب عليه باتفاق الروايات حتى لو باعها واشترى بثمنها أخرى والثانية دون الأولى جاز ولا يجب عليه شيء۔(خلاصة الفتاوى،كتاب الأضحية،ج:4،ص:317)

أجمع أصحابنا رحمهم الله: أن الشاة تصير واجبة الأضحية بالنذر بأن قال: لله علي أن أضحي هذه الشاة، وأجمعوا على أنها لا تصير واجبة الأضحية بمجرد النية، بأن نوى أن يضحي هذه الشاة ولم يذكر بلسانه نيته، وهل تصير واجبة الأضحية بالشراء بنية الأضحية؛ قال: إن كان المشتري غنياً لا تصير واجبة الأضحية باتفاق الروايات كلها؛ حتى لو باعها، واشترى أخرى، والثانية شر من الأولى جاز، ولا يجب عليه شيء.( المحيط البرهاني،الفصل الثاني في وجوب الأضحية بالنذر وما هو في معناه،ج:6 ،ص:87)

رجل اشترى شاة للأضحية وأوجبها بلسانه، ثم اشترى أخرى جاز له بيع الأولى في قول أبي حنيفة ومحمد - رحمهما الله تعالى -، وإن كانت الثانية شرا من الأولى وذبح الثانية فإنه يتصدق بفضل ما بين القيمتين؛ لأنه لما أوجب الأولى بلسانه فقد جعل مقدار مالية الأولى لله تعالى فلا يكون له أن يستفضل لنفسه شيئا، ولهذا يلزمه التصدق بالفضل قال بعض مشايخنا: هذا إذا كان الرجل فقيرا فإن كان غنيا فليس عليه أن يتصدق بفضل القيمة.(الفتاوی الهندية،كتاب الأضحية،الباب الثاني في وجوب الأضحية،ج:5،ص:294)

 


فتویٰ نمبر : 9158/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں