بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

مجنون كی طرف سے اس كےمال ميں قربانی كرنا


سوال

ایک شخص پہلے کبھی مجنون ہوتا تھا کبھی فاقہ میں آجاتا تھا ،  جب تندرست ہوا تو تندرستی کی حالت میں ایک دفعہ اس نے اپنی بیوی کے بھائی کو کہا کہ میں کبھی پاگل ہوتا ہوں اورکبھی ٹھیک ہوتا ہوں نیز کمزور بھی ہوں کچھ کر نہیں سکتا، لہذا میری جائیداد کاسارا اختیار آپ کے پاس ہے اس سے ميری علاج کرائیں اور میری ضروریات پوری کریں اب وہ بالکل مجنون ہوا کبھی فاقہ نہیں آتا سات اٹھ سال سے کسی سے  بات نہیں کررہا،اب  اس نے جس کو  اختیار دیا ہے وہ کہ رہا ہے  کہ کیا میں اس مجنون کی مال سےاسکی   طرف سےقربانی کرسکتا ہوں یا نہیں، کیونکہ اس نے مطلق کہا تھاکہ میری ضروریات میں خرچ کرو تو کیا اختیار ملنے کے بعد وہ اس کے مال سے اس کی طرف سے قربانی کرسکتا ہے یا نہیں ؟

جواب

             شریعت مطہرہ کی رو سےولی کو مجنون کے مال میں ایسی تصرفات کرنے کی اجازت ہے جو مجنون  کے لیے فائدہ مند ہو،چونکہ قربانی نہ تو خود مجنون پر واجب ہےاور نہ ہی اس کے مال میں واجب ہے اگر چہ  وہ مالدار کیوں نہ  ہو لہذا  ولی كے ليےمجنون کے مال  میں مجنون کی طرف سے  قربانی کرنا جائز نہیں۔

            صورت مسؤلہ کے مطابق اگر ولی  کوواقعتاً مجنون  نےحالت جنون سے پہلےاس کی ضروریات میں مال خرچ کرنے کی اجازت دی ہواور پھر سات آٹھ سال سے یہ شخص مجنون رہا تو ایسی صورت میں ولی کے لیے مجنون کی طرف سے  اس کے مال میں قربانی کرنا جائز نہیں۔

 

وللوصي في قول أبي حنيفةرحمه الله تعالى أن يضحي من مال الصغير قياسا على صدقة الفطر۔۔۔ كذا في فتاوى قاضي خان. والأصح أنه لا يجب ذلك وليس له أن يفعله من ماله، كذا في المحيط۔۔۔والمعتوه والمجنون في هذا بمنزلة الصبي. (الهندية،الباب الأول في تفسيرالأضحيةوركنها، ج:5، ص:338)

ومن المتأخرين من قال لا خلاف بينهم في الأضحية أنها لا تجب في مالهما۔۔۔ إلا أن صدقة الفطر خصت عن النصوص فبقيت الأضحية على عمومها۔ (بدايع الصنائع، كتاب الأضحية، ج:5، ص:65)

وإن كان للصغير مال يضحي عنه أبوه من ماله، أو وصيه من ماله عند أبي حنيفة وقال محمد وزفر والشافعي رحمهم الله تعالى من مال الأب لأن الإراقة إتلاف ۔۔۔ وفي الكافي الأصح أنه لا يجب ذلك وليس للأب أن يفعله من مال الصغير۔ (البحر الرائق، كتاب الأضحية، ج:8، ص:199)


فتویٰ نمبر : 9195/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں