بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

بچوں سے تعلیم کی غرض سےسری نمازوں میں جہری قراءت کرانا


سوال

  بچوں سے بغرض تعلیم  سری نمازوں میں ان سے جہری قراءت کرانا  جائز ہے یا نہیں؟

جواب

             شرعی نقطہ نظر سے جن فرض نمازوں میں  جہر کے ساتھ قراءت کرنا منقول ہے ان میں بشرط جماعت جہری قراءت کرنا واجب ہے  اور جن نمازوں میں سری قراءت کرنا منقول ہے ان میں سری کرنا  واجب ہے البتہ رات کے وقت انفرادی  نماز میں اختیار ہےچاہے جہرا قراءت کرے یا سرا،لیکن دن کے وقت میں سری قراءت کرنا ضروری  ہے، اس کے علاوہ  جہری قراءت  اگراس طور پر ہو  کہ قریب میں صرف ایک یا دو آدمی  سن سکے  تو وہ سری قراءت شمار ہوگی۔جہاں تک بچوں کو   جہرانماز  پڑھانے   کا تعلق ہے  تو یہ عام طور پر تعلیماً ہوتا ہے کیونکہ اس کے  بغیر  وہ نماز کو صحیح طریقے سے سمجھ نہیں پائیں گے علاوہ ازیں  وہ چونکہ عموما نابالغ ہوتے ہیں اور نابالغ احکام  شرعیہ کے مکلف نہیں ہوتے اس لیے ان کے حق میں یہ نمازیں نفل کے درجہ میں ہیں اور نفل نمازوں میں بمقابلہ فرض نمازوں  کے  احکام کے اعتبار سے وسعت ہوتی ہے لہٰذا بچوں سے  سری نمازوں میں تعلیم  کے طور پر قدرے جہر نماز پڑھانے کی گنجائش موجود ہے۔

 

(في الفجر وأولى العشاءين أداء وقضاء وجمعة وعيدين وتراويح ووتر بعدها) أي في رمضان فقط للتوارث: (ويسر في غيرها) «وكان - عليه الصلاة والسلام - يجهر في الكل ثم تركه في الظهر والعصر لدفع أذى الكفار» ۔۔۔(المخافتة إسماع نفسه) ومن بقربه؛ فلو سمع رجل أو رجلان فليس بجهر، والجهر أن يسمع الكل خلاصة۔(الدر المختار على صدر رد المحتار،فصل في القراءة،ج:1،ص:535)

(وسمى سرا في كل ركعة) وقال الشافعي يجهر بالتسمية عند الجهر بالقراءة لما روى أبو هريرة أنه - عليه الصلاة والسلام - كان «يفتتح الصلاة ببسم الله الرحمن الرحيم» وكان عمر وعثمان وعلي يجهرون بها ولنا ما روي عن أنس - رضي الله عنه - أنه قال «صليت خلف النبي - صلى الله عليه وسلم - وخلف أبي بكر وعمر وعثمان فلم أسمع أحدا منهم يجهر ببسم الله الرحمن الرحيم» رواه مسلم وقال أبو هريرة «كان النبي - صلى الله عليه وسلم - لا يجهر بها» ذكره أبو عمر في الإنصاف وما رواه ليس فيه دلالة على الجهر أو يحمل على أنه كان يجهر بها أحيانا للتعليم كما كان يجهر أحيانا بالقراءة في الظهر تعليما۔(تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق،فصل الشروع في الصلاة و بيان احرامها،ج:1،ص:112)


فتویٰ نمبر : 9206/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں