بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

میت کی طرف سے عید میں قربانی کرنا


سوال

اگر کوئی شخص اپنے مرحوم والدین کی طرف سے عید الاضحی کے موقع پر قربانی کرنا چاہے تو اس کی شرعاً اجازت ہے یا نہیں۔ اور اگر اجازت ہے تو اس کا گوشت خود کھا سکتا ہے یا سارا تقسیم کرنا ضروری ہے؟

جواب

           اگر کوئی شخص ذاتی رقم سے اپنے مرحوم والدین کے لیے ان کے حکم کے بغیر قربانی کرلے اور اس کا ثواب والدین کو بخش دے تو اس قربانی کاگوشت خود بھی کھا سکتا ہے اور اغنیا و فقرا سب کو کھلا سکتا ہے اور اگر والدین کی وصیت کے مطابق ان کے ترکہ کے تہائی میں سے قربانی کی جائے تو اس کا گوشت صدقہ کرنا واجب ہے کیونکہ یہ قربانی اس کے مال سے ہوتی ہے ورثا اس کے مالک نہیں ہوتے اور ان پر اس کا صدقہ کرنا واجب ہےاس لیے صرف غربا و فقر ا کو کھلانا ضروری ہے۔

 

و لو ضحى عن ميت من مال نفسه بغير أمر الميت جاز و له أن يتناول منه و لا يلزمه أن يتصدق به لأنها لم تصر ملكا للميت ۔۔۔   و إن ضحى عن ميت من مال الميت بأمر الميت يلزمه التصدق بلحمه و لا يتناول منه لأن الأضحية تقع عن الميت۔ (فتاوى قاضي خان، كتاب الأضحية، فصل فيما يجوز في الضحايا وما لا يجوز، ج:3، ص:239)


فتویٰ نمبر : 9162/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں