بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 13/08/2026

دارالافتاء

 

اپنی بیوی کو"تو دنیا اور آخرت میں میری بہن ہے"کہنا


سوال

اگر کوئی شخص  مذاکرہ طلاق کے دوران  غصہ کی حالت میں  گھر کے دیگر عورتوں کو گواہ بنا کر اپنی بیوی کو دو دفعہ یہ الفاظ کہے کہ "تو دنیا اور آخرت میں میری بہن ہے" اور اس کا نیت ایک طلاق کا ہو،تو شرعا اس سے طلاق واقع ہوا ہے یا نہیں؟

جواب

              شرعی نقطہ نظر سے اپنی بیوی کو محرمات ابدیہ  کے ساتھ تشبیہ دینا ظہار کہلاتا ہے اور ظہار کے ثابت ہونے کے لیے حرف تشبیہ کا ہونا ضروری ہے اگر حرف تشبیہ نہ ہو تو محض نسبت کرنے سے ظہار کا حکم ثابت نہیں ہوتا۔البتہ اگر نیت طلاق کا ہو تو طلاق واقع ہو جاتی ہے ۔

            صورت مسئولہ کے مطابق  مذکورہ الفاظ "کہ تو دنیا و آخرت میں میری بہن ہو"ظہار کے نہیں، کیونکہ ظہار میں حرف تشبیہ کا ہونا ضروری ہے جو اس کلام میں موجود نہیں،تاہم عادۃعرف میں  بیوی کو بہن کہنے کے الفاظ  طلاق کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں اس لیے ان الفاظ کے کہنے سے ایک طلاق بائن واقع ہوتی ہے چونکہ  طلاق بائن کے ساتھ دوسری بائن جمع نہیں ہوتی اگر چہ وہ ایک سے زائد  مرتبہ یہ الفاظ کہہ دے پھر بھی اس سے ایک طلاق بائن واقع ہوئی ہے،اس لیے ازدواجی تعلق  بحال کرنے کے لیے تجدید نکاح لازم ہے۔

 

الصريح يلحق الصريح و يلحق البائن۔۔۔والبائن يلحق الصريح۔۔۔لاالبائن۔(الدرالمختارعلى صدر رد المحتار،كتاب الطلاق،باب الكنايات،مطلب الصريح يلحق  الصريح والبائن،ج:4،ص:540)

قال العلماء: لا بد في الظهار من التشبيه وإذا قال: أنت أمي لا يكون ظهارا بل لغوا،اقول:لا بد من أن يكون طلاقا بائنا عند النية وقد روي عن ابي يوسف كما في العمدة۔(العرف الشذي على هامش الترمذي،ابواب الطلاق والرضاع،باب ما جاء في كفارة الظهار،ج:1،ص:357)


فتویٰ نمبر : 6427/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں