بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

الله تعالی کی طرف شر کی نسبت کرنا


سوال

ایک عورت کی بچی بیمار تھی اس پر سسرال والوں نے اس کو کہا  کہ آپ نے بچی کو بہت خراب کیا  عورت کی بھائی نے عورت کوکہا کہ آپ نے سسرال والوں کو یہ کیوں نہیں کہا کہ "میں نے نہیں بلکہ اللہ تعالی نے خراب کیا ہے"۔ یہ الفاظ غیرارادی طور پر میرے  منہ سے نکلے اس میں کسی قسم کی بے ادبی کا خیال نہیں تھا بلکہ لفظِ خراب سے میرا مطلب  بچی کی بیماری یا کمزوری تھی،نیزہمارے علاقے میں جب کوئی زیادہ بیمار ہو جائے تو اکثر لوگ کہتے ہیں کہ فلان بہت خراب ہے تو کیا یہ کفریہ الفاظ تو نہیں؟ اگر یہ کفریہ الفاظ ہیں تو میں ایک شادی شدہ شخص باہر ملک میں ہوں،تجدید نکاح کیسے کروں؟

جواب

            واضح رہے کہ ہر  پیش آنے والا  واقعہ چاہے خیر کا ہو یا شرکا پہلے  سے اللہ کے ہاں لکھا ہواہوتا ہے خیر و شر کا خالق ومالک اللہ تعالی ہی  ہے اس لیے اگرکوئی بیمار ہوجائے توخلق(پیدا کرنے)کے حوالے سے  اللہ کی طرف اس کی نسبت کرناگوکہ شرعا درست ہے تاہم سوءِ ادب سے بچنے کے لیےمناسب یہ ہے کہ اللہ تعالی کی طرف شر کی نسبت نہ کیا جائے۔

           صورت مسئولہ  کے مطابق اس طرح کے الفاظ  عام محاورہ میں استعمال ہوتے ہیں ان میں عادۃً بے ادبی کا ارادہ  نہیں کیا جاتا،بلکہ مؤثر حقیقی کی بنیاد پر نسبت ہوتی ہے اس لیے ان جیسے الفاظ کہنے  سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا،تاہم بے ادبی سے بچنے کے لیے شر کی نسبت براہ راست اللہ تعالی کی طرف نہیں کرنا چاہیے۔  

 

(وأنا لا ندري أشر أريد بمن في۔۔)۔۔۔ما في قولهم أشر أريد الخ من الأدب حيث لم يصرحوابنسبةالشر إلى الله عزوجل كما صرحوا به في الخير وإن كان فاعل الكل هوالله تعالى ولقد جمعوابين الادب وحسن الاعتقاد۔(روح المعاني في تفسير القرآن العظيم،الجن:،ص:88،ج:29)

(بِيَدِكَ الْخَيْرُ) ۔۔۔وإنما خص الخير بالذكر تعليما لمراعاة الأدب وإلا فذكر الإعزاز والإذلال يدل على أن الخير والشر كلاهما بيده سبحانه، وكذا قوله تعالى المسوق لتعليل ما سبق، وتحقيقه إِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ فلا يبعد أن تكون الآية من باب الاكتفاء۔( روح المعاني في تفسير القرآن العظيم،آل عمران:26،ص:115،ج:3)

أصل التوحيد وما يصح الإعتقاد عليه يجب أن يقول آمنت بالله۔۔۔ والقدر خيره و شره من الله تعالى۔(الفقه الأكبر للإمام الأعظم أبو حنيفة،ص:23)


فتویٰ نمبر : 5055/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں