بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مسلمان کو بغیر جنازہ کے دفن کرنا


سوال

میں نے ایک عیسائی عورت سے چھپ کر نکاح کیا جو بعد میں مسلمان ہوگئی لیکن اس کے گھر والوں کو نکاح کا اور مسلمان ہونے کاعلم نہیں تھا، کچھ عرصہ بعد  یہ عورت بیمار ہو کر فوت ہو گئی، مجھے علم ہوا تو اس وقت میں شہر سے باہر تھاجب مجھے معلوم ہوا تو دیر ہو چکی تھی میں وہاں پہنچا تو اس کے خاندان والوں نے اپنی رسومات کر کے اس کی تدفین کا انتظام کر رکھا تھا، میں مصلحت کی وجہ سے خاموش رہا ، فوتگی اور تدفین وغیرہ نومبر 2020ء میں ہوئی ہے۔ اب گھر والوں کو نکاح اور اسلام کا پتہ چل چکا ہےلیکن لڑکی والے اس سے انکاری ہیں۔ اس عورت کی مسلمان ہونے کے باوجود بغیر نماز جنازہ کے تدفین کی گئی ہے، اس کا شرعاً کیا حل ہے؟

جواب

               نماز جنازہ پڑھنا ہر مسلمان میت کاحق ہے اور اہل علاقہ کے ذمہ فرض کفایہ ہے، اگر کسی مسلمان میت کو بغیر جنازہ کے دفن کر دیا گیا تو اگرغالب گمان یہ ہو کہ لاش پھٹی نہیں  ہوگی تو اس کی قبر پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور اگر اس قدر پرانی ہوجانے کا گمان غالب ہوتو نمازِ جنازہ نہیں پڑھی جائے گی۔ ایسی صورت میں توبہ استغفار کرنا چاہیے۔

               صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ عورت نے واقعۃً اسلام قبول کیا ہو اور متعلقین نے بغیر نماز جنازہ کے اس کو دفن کیا ہو تو اگر غالب گمان یہ ہے كہ اس کا جسم پھول کر ختم ہو چکا ہو گا تو اس صورت میں اس کی قبر پر نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی بلکہ ایسی صورت میں توبہ استغفار کیا جائے تاہم اگر علاقہ کے ماہرین کے مطابق اتنے عرصے میں اس زمین میں جسم پھول کر ختم نہیں ہوتا تو پھر اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔

 

وإن دفن الميت ولم يصل عليه صلى على قبره " لأن النبي عليه الصلاة والسلام صلى على قبر امرأة من الأنصار " ويصلى عليه قبل أن يفسخوالمعتبر في معرفة ذلك أكبر الرأي هو الصحيح لاختلاف الحال والزمان والمكان۔ (الهداية، فصل في الصلاة على الميت، ج:1،ص:90)

والصلاة على الجنازة فرض على الكفاية، تسقط بأداء الواحد، إذا كان هو الولي، وليس للقوم أن يعيدوا بعد ذلك۔ (المبسوط للسرخسي، باب الصلاة على الجنازة، ج:2، ص:126)

(وإن دفن) وأهيل عليه التراب (بغير صلاة) أو بها بلا غسل، أو ممن لا ولاية له (صلي على قبره) استحسانًا (ما لم يغلب على الظن تفسخه) من غير تقدير، هو الأصح.


فتویٰ نمبر : 9163/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں