بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 15/08/2026 |
دارالافتاء
دکان دارکا ایزی پیسہ صارف کے پیسے کمپنی کے بجائے ذاتی اکاونٹ سے نکالنا
سوال
اگر کوئی شخص ایزی پیسہ کا ذاتی اکاؤنٹ بنائےاور کمپنی کے ساتھ ایگریمنٹ کئے بغیر لوگوں سے اسی انداز کے مطابق نفع حاصل کرتا رہے جتنا ایزی پیسہ کمپنی حاصل کرتا ہے۔مثلاً کسی کے ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے ہزار روپے نکالنے ہو تو اس پر 20 روپے اضافی چارج کیے جاتے ہیں جن میں سےکچھ کمپنی والوں کے پاس چلے جاتے ہیں اور کچھ ہمیں دئیے جاتے ہیں ،لیکن اگر کوئی اپنی طرف سے گاہک سے اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں ہزار روپے منتقل کرلےاوراس پر اضافی 20 روپے لیں اس صورت میں 20 روپے پورے ہمارے اکاؤنٹ میں آجاتے ہیں اور کوئی اضافی چارجز اس میں نہیں ہوتے ، اسی طرح وہ ہزارروپے ہم کسی بینک اکاؤنٹ میں ڈال دیتے ہیں اور وہ 20 روپے ہمیں بچ جاتے ہیں ، اب سوال یہ ہے کہ یہ 20 روپے ہمارے لیے جائز ہے یا نہیں؟
جواب
شریعت مطہرہ کی رو سے خدمات کے عوض اجرت حاصل کرنا اجارہ کہلاتا ہے عقد اجارہ کی صحت کے لئے جو شرائط ہیں ان کی رعایت رکھنے کی صورت میں یہ عقد جائز ہے۔
صورت مسئولہ میں دکاندار جب گاہک کے ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے اپنے ذاتی اکاؤنٹ کے ذریعے سے پیسے نکال کے دیتے ہیں اورگاہک سے اضافی 20 روپے کاٹتے ہیں تو یہ سود نہیں ہے، بلکہ یہ دکاندار اپنی خدمت مہیا کرنےاور دکان میں موجود سہولتوں کے عوض وصول کرتا ہے، اس لیے دکاندار کے لیے یہ پیسے وصول کرنا جائز ہے۔ تاہم کسٹمر کے ساتھ اجرت پہلے سے متعین کرنا ضروری ہے تاکہ بعد میں تنازع کاسبب نہ بنے۔
وإن وردت الإجارة على العمل كالخياطة والصبغ، فلا يجب الأجر مالم يفرغ الأجير من العمل۔ (شرح المجلة لسليم رستم باز، كتاب الإجارة، باب ضمان الأجير، ج:9، ص:94)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 313
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 854
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 432
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 109
- کتاب النکاح | فتاوئ : 547
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 472
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 459
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 97
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 72
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 170
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 382
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 314
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1152
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 373
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں