بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

منی ،مزدلفہ اور عرفات میں نماز کا حکم


سوال

اگر کوئی پاکستانی حج کے ایام میں  مکہ مکرمہ میں اقامت کی نیت کرے تو منی، مزدلفہ اور عرفات میں قصر کرے گا یا پوری نماز پڑھے گا؟

جواب

             واضح رہے کہ منی اور مکہ مکرمہ دو الگ الگ مقامات ہیں اس لیے اگر کوئی حاجی مکہ مکرمہ پہنچ کر پندرہ دن یا اس سے زیادہ اقامت کی نیت سے وہاں قیام کرے تو وہ مقیم ہوگا، اور پھر منی، مزدلفہ وعرفات میں پہنچ کر بھی  پوری نماز پڑھے گا، کیونکہ یہ سب مقامات مکہ مکرمہ سے تقریباًآٹھ یا نومیل کے فاصلے پر ہیں۔ اور اگر مکہ مکرمہ میں پندرہ دن سے کم قیام رہا تو وہ مسافر رہے گا چنانچہ مکہ مکرمہ ، منی، عرفات اور مزدلفہ سب جگہوں میں اپنی نمازوں میں  قصر کرے گا۔

                لہذا صورت مسئولہ میں اگرپاکستانی حاجی مکہ مکرمہ  اس وقت پہنچے جب کہ منی کو جانے سے قبل اس کے پاس  پندرہ دن کی مدت ہو اور یہ دن مکہ مکرمہ ہی میں حج کے انتظار میں گزارنے ہوں تو ایسی صورت میں مکہ مکرمہ میں اگر اقامت کی نیت کرلے تو مکہ مکرمہ میں اور اس کے ساتھ منی، عرفات اور مزدلفہ سب جگہوں پر پوری نماز پڑھے گا اور اگر مکہ مکرمہ میں پندرہ دن پورے نہ بنتے ہوں حتی کہ  منی کو جانا پڑے  تب مکہ مکرمہ میں  پندرہ دن اقامت کی نیت کرنے سے  بھی مقیم نہ ہوگا کیونکہ اقامت کے لیے ایک ہی جگہ پر پندرہ دن گزارنے کی نیت کا اعتبار ہوتا ہے دو علیحدہ جگہوں میں پندرہ دن اقامت کی نیت  كرنے سےیہ شخص مقیم نہیں ہوتا اس لیے مکہ مکرمہ اور منی کے دنوں کو ملا کر  پندرہ دن کی نیت کرنے کا اعتبار نہ ہوگا۔

 

إنه إذا نوی الإقامة بمكة شهرًا ومن نیته أن یخرج إلی عرفات ومنی قبل أن یمکث بمكة خمسة عشر یومًا لا یصیر مقیمًا؛ لأنه لا یکون ناویًا لإقامة مستقلة فلا تعتبر. (منحة الخالق علی البحر، کتاب الصلاة، باب صلاة المسافر، ج:2، ص:143)

(بموضعین مستقلین کمكة ومنیٰ) فلو دخل الحاج مكة أیام العشر لم تصح نیته لأنه یخرج الیٰ منیٰ وعرفة فصار كنية الإقامة في غير موضعها... (قوله فلو دخل إلخ) لأنه لما کان عازماً علی الخروج قبل تمام نصف شهر لم یصر مقیما".(الدرالمختار مع الردالمحتار، کتاب الصلاة، باب صلاة المسافر، ج:2، ص:126)

من خرج من عمارة موضع إقامته قاصداً مسیرة ثلاثة أیام ولیاليها…صلی الفرض الرباعي رکعتین …حتی یدخل موضع مقامه أو ینوي إقامة نصف شهر بموضع صالح لها فیقصر.(رد المحتار على الدر المختار ، کتاب الصلاة، باب صلاة المسافر، ج:2، ص:404-599)


فتویٰ نمبر : 9189/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں