بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
ذبح میں شریک کا تسمیہ نہ پڑھنا
سوال
اگر کسی جانور کے ذبح کرنے میں دو آدمی شریک ہیں ایک نے بسم اللہ پڑھی اور دوسرے نے یہ سمجھ کر بسم اللہ ترک کردی کہ ایک كی بسم اللہ کافی ہے اور دونوں کے بسم اللّٰہ پڑھنے کی شرط، اس کے علم میں نہیں تھی تو ذبیحہ حلال ہوگا یا نہیں؟ بعض فقہی عبارات سے ذبیحہ کا حرام ہونا ثابت ہوتا ہے ۔ جیساکہ قاضی خان میں ہے : رجل أراد أن يضحی فوضع صاحب الشاة يده مع يد القصاب في المذبح وأعانه علی الذبح حتی صار ذابحا مع القصاب . قال الشيخ الامام -رحمه الله تعالیٰ- يجب علی کل واحد منهما التسمية حتی لوترک أحدهما التسمية ،لاتحل الذبيحة ، وکذا لو علم صاحب الشاة أن التسمية شرط الا أنه ظن أن تسمية أحدهما تکفی لايحل أکله. ( فتاوٰى قاضي خان، کتاب الاضحية، فصل في مسائل متفرقة، ج:3، ص:212) یہ عبارت ہنديہ، درمختار، سکب الانهر، حاشيہ ابوالسعود علی شرح الکنز وغیرہ دیگر کتب فقہ میں بھی موجود ہے ۔ جبکہ بعض عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ ذبیحہ حلال ہے ۔ مثلا بزازیہ میں ہے : وذکر السرخسی : من کان ذاکرا للتسمية لکن لايعلم أنها شرط الحل وترک فهو في معنی الناسي. (البزازية : /۲ ۴۲۸، کتاب الذبائح ، الثانی : فی التسمية) بنایہ شرح الہدایہ میں ہے : أما لو تركها من لم يعلم باشتراطها فهو في حکم الناسي. ذکره فی الحقائق. ( البناية، کتاب الذبائح ،حکم أکل متروک التسمية، ج:11، ص:534) اسی طرح رد المحتار علی الدر المختار میں بھی اس مسئلہ پر بحث ہے ۔ نیز علامہ ہاشم سندھی علیہ الرحمہ کی " فاكهة البستان فی مسائل ذبح وصيد الطير والحيوان" نامی کتاب میں بھی اس مسئلہ پر "مطلب: فی ترک التسمية جاهلا " کے عنوان سے مختلف کتب فقہ کے حوالہ سے بحث موجود ہے اور وہاں انہوں نے لکھا ہے کہ گویا کہ اس مسئلہ میں دو قول ہیں۔سوال یہ ہے کہ کون سا قول راجح اور مفتی بہ ہے ۔ نیز صاحب بزازیہ نے علامہ سرخسی کے حوالہ سے جو مسئلہ تحریر فرمایاہے یہ عبارت علامہ سرخسی کی کس کتاب میں ہے نشاندہی فرماکر ممنون فرمائيں۔
جواب
جو شخص ذبح میں شریک ہواس پربسم اللہ پڑھنا ضروری ہے اور محض جانور کے پاؤں وغیرہ پکڑنے والے شریک نہیں کہلائیں گے بلکہ جو شخص ذبح کرنے والے کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر زور دے اور چھری چلانے میں مدد دے وہ شریک في الذبح ہے اور اس پربسم اللہ پڑھنا ضروری ہے یہی قول راجح اور مفتٰی بہ ہے ۔صاحب بزازیہ نے علامہ سرخسی کے حوالہ سے جو تحریر کیا ہے وہ قول حتٰی الوسع کوشش کے بعد بھی ہمیں نہ مل سکا۔ لہذا یا تو مذکورہ قول کی نسبت علامہ سرخسی کی طرف درست نہیں یا نقل میں غلطی ہوگئی ہوگی اس لیے کہ مذکورہ قول قواعد حنفیہ کے مخالف ہے۔ حنفیہ نے تصریح کی ہے کہ کتاب وسنت اور اجماع کی مخالفت کرنے والے کی جہالت معتبر عذر نہیں اور یہاں شریک کا بسم اللہ کو ترک کرنا عمدا اور جہلا ہے جو کہ عذر نہیں نیز ذبائح میں حل و حرمت کے تعارض کی صورت میں ترجیح حرمت کو ہوتی ہے۔
رجل أراد أن يضحي فوضع صاحب الشاة يده مع يد القصاب في المذبح و أعانه على الذبح حتى صار ذابحا مع القصاب قال الشيخ الإمام هذا رحمه الله تعالى يجب على كل واحد منهما التسمية حتى لو ترك أحدهما التسمية لاتحل الذبيحة. و كذا لو علم صاحب الشاة أن التسمية شرط إلا أنه ظن أن تسمية أحدهما تكفي لا يحل أكله. (فتاوى قاضي خان، كتاب الأضحية، فصل في مسائل متفرقة، ج:3، ص:212)
ومن شرائط التسمية أن تكون التسمية من الذابح حتى لو سمى غيره والذابح ساكت وهو ذاكر غير ناس لا يحل. (الفتاوى الهندية، كتاب الذبائح، الباب الأول، ج:5، ص:286)
فمنها أن تكون التسمية من الذابح حتى لو سمى غيره والذابح ساكت وهو ذاكر غير ناس لا يحل؛ لأن المراد من قوله تبارك وتعالى {ولا تأكلوا مما لم يذكر اسم الله عليه} [الأنعام: 121] أي: لم يذكر اسم الله عليه من الذابح فكانت مشروطة فيه. (البدائع الصنائع، كتاب الذبائح و الصيود، فصل في بيان شرط حل الأكل في الحيوان المأكول، ج:5، ص:48)
قوله: وجهل من خالف في اجتهاده الكتاب أو السنة المشهورة أو عمل بالغريب على خلاف الكتاب أو السنة المشهورة فإنه ليس بعذر أصلا ... كالفتوى بحل متروك التسمية عامدا عملا بالغريب من السنة فإنه مخالف لقوله تعالى: ولا تأكلوا مما لم يذكر اسم الله عليه. (غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر، احكام الناسي والجاهل والمكره، حقيقة الجهل و أقسامه، ج:3، ص:299)
وإنما الجهل ليس بعذر في دار الإسلام في الفرائض التي لا بد لإقامة الدين منها. (البناية شرح الهداية، كتاب البيوع، باب السلم، ج:8، ص:376)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں