بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

صاحب ِ نصاب اور فقرا کے مابین مشترکہ قربانی کے جانور کا بچہ جننا اور اس کی تبدیلی


سوال

قربانی کے لیے گائے خریدی گئی، شریک افراد میں سے کچھ افراد صاحب نصاب ہیں اور کچھ صاحب نصاب نہیں ہیں، تمام شرکا نے کچھ نہ کچھ رقم ادا کی ہے لیکن اب  گائے سے بچہ پیدا ہوا ہے۔ کیا اس جانور کو چھوڑ کر اسی رقم سے دوسرا جانور خرید کر قربانی کرنا درست ہے یا اسی جانور کی اس کے بچے سمیت قربانی کرنا ضروری ہے؟

جواب

            واضح رہے کہ اگر صاحب نصا ب اور غیر صاحب نصاب  لوگوں نے قربانی کے لیے جانور خریدا اور  قربانی سے پہلے  یہ جانور بچہ جنے تو ایسی صورت میں  اگرمذکورہ جانور اور اس  کےبچے  کو قربانی کے دنوں میں ذبحہ  کیا جائے  تو شرعاً صاحب نصاب اور غير صاحب  نصاب  دونوں  کی قربانی  ادا ہو جائیگی، البتہ اگر شرکا اسے تبدیل کرناچاہےتو صاحب نصاب کے لیے گنجائش ہے کیونکہ اس کے ذمے صرف  قربانی واجب ہے متعین جانور میں قربانی واجب نہیں،البتہ غير صاحب  نصاب آدمی جب ایک مرتبہ قربانی کی نیت سے جانور خریدے تو پھر جانور میں  تبدیلی نہیں کرسکتا،کیونکہ خریدنے سے وہ جانور قربانی کے لیے متعین ہوجاتا ہے۔

             صورت مسؤلہ کے مطابق اگر صاحب نصا ب اور غیر صاحب نصاب  لوگوں نے قربانی کے لیے جانور خریدا  ہو اور  قربانی سے پہلے  اس جانور نےبچہ جنا ہو، اور شرکا اس جانور کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو ایسی صورت میں صاحب نصاب کے لیے تبدیلی کی گنجائش ہے،لیکن غیر صاحب نصاب کے لیے  اس جانور کی تبدیلی جائز نہیں،تا ہم مذکورہ صورت میں مکمل جا نور غیر صاحب نصاب  شریک کی ملکیت میں نہیں ہے،اس لیے اگر صاحب نصاب شرکا اس کو فروخت کرلے تو غیر صاحب نصاب کو اس کے بقدر رقم  ادا کی جائےگی  اور وہ اس کو صدقہ کرے گا۔ البتہ اگر سب شرکا مل کرمذکورہ جانور کو بچے سمیت  ذبحہ  کرلے تو ایسی صورت میں دونوں کی قربانی  شرعاً ادا ہو جائیگی۔

 

وفي ظاهر الرواية يتعين للأضحية بالشراء؛ لأن الشراء من الفقير بنية الأضحية بمنزلة النذر عرفا، وعادة؛ لأنا لا نجد في العرف فقيرا اشترى شيئا للأضحية إلا ويضحي بها لا محالة فكان بها ملتزما۔(تبیین الحقائق،  کتاب الأضحية، ج:6، ص:478)

ولو كان غنيا مع تصريحهم بأنها واجبة في ذمته غير متعينة عليه، حتى جازله أن يبدلها بغيرها مع الكراهة۔ (ردالمحتار، كتاب الأضحية، ج:6، ص:333)

قال في البدائع: وقال في الأصل: وإن باعه تصدق بثمنه لأن الأم تعينت للأضحية والولد يحدث على صفات الأم الشرعية. ومن المشايخ من قال هذا في الأضحية الموجبة بالنذر أو ما في معناه كشراء الفقير وإلا فلا، لأنه يجوز التضحية بغيرها فكذا ولدها (قوله وعند بعضهم يتصدق به بلا ذبح) قدمنا عن الخانية أنه المستحب، وظاهره ولو في أيام النحر، وانظر ما في الشرنبلالية عن البدائع۔( رد المحتار على الدر المختار، ‌‌كتاب الأضحية، ج:6، ص:322)


فتویٰ نمبر : 9184/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں