بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

مسجد کےلیے وقف شدہ شمسی پلانٹ کی بجلی کا استعمال


سوال

اگر کوئی شخص    مسجد  کےلیے وقف شدہ شمسی پلانٹ سے اپنے گھر کو کنکشن لینا چاہتا ہے  اور کہتا ہے کہ میں اس کے عوض  مسجد میں پیسے جمع کروں گا تو کیا  اس طرح مسجد  کےلیے وقف شدہ شمسی پلانٹ سے گھر کےلیے کنکشن لینا جائز ہوگا یا نہیں؟

جواب

            واضح رہے کہ واقف کی شرط مفہوم اور دلالت میں شارع کی نص کی طرح ہے  یعنی واقف اگر کوئی چیز وقف کرتے وقت  کوئی شرط رکھ دے  اور وہ شریعت کے خلاف نہ ہو تو وہاں اس شرط کی رعایت رکھی جائے گی،تاہم جہاں کسی چیز کے بارے  میں واقف کی شرط معلوم نہ ہو  یا واقف نے مفاد عامہ میں  موقوفہ کی منافع خرچ کرنے کی اجازت دی ہو تو اس صورت میں مخصوص مصارف کے علاوہ میں  موقوفہ چیز استعمال کی جاسکتی ہے۔

            لہذا صورت مسئولہ میں  مسجد کےلیے  وقف شدہ شمسی پلانٹ  کو اگر واقفین  کی طرف سے مسجد کی ضرورت کےلیے وقف کیا ہو   تو اس صورت میں شمسی پلانٹ  سے ذاتی استعمال کےلیے یا گھر کنکشن  لینے کی اجازت نہ ہوگی ۔

 

شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة، ووجوب العمل به.(رد المحتار على الدر المختار،مطلب في وقف المنقول قصدا،ج:4،ص:366)

متولي المسجد ليس له أن يحمل سراج المسجد إلى بيته وله أن يحمله من البيت إلى المسجد، كذا في فتاوى قاضي خان.(الفتاوى الهندية،الفصل الثاني في الوقف وتصتف القيم وغيره،ج:2،ص:462)

لما في الحاوي: غرس في المسجد أشجارا تثمر إن غرس للسبيل فلكل مسلم الأكل وإلا فتباع لمصالح المسجد.(الدر المختار على صدر رد المحتار،فروع مهمة،ج:4،ص:432)


فتویٰ نمبر : 5029/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں