بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/08/2026

دارالافتاء

 

جانور خریدنے پر باقی شرکا سے کمیشن کا مطالبہ کرنا


سوال

قربانی میں شریک ایک حصہ دار نے  قربانی کا جانور خرید لیا   اور باقی شرکا سے اس خریداری پر کمیشن کا مطالبہ کرتا ہے  حالانکہ  یہ خریدار خود بھی اس جانور میں شریک ہے  تو کیا  جانور خریدنے پر باقی شرکا سے کمیشن کا مطالبہ کرنا ٹھیک ہے یا نہیں؟اور اس سے قربانی پر کچھ اثر پڑے گا یا نہیں؟

جواب

              واضح رہے کہ اگر وکالت میں اجرت کی شرط رکھ دی جائے تو کام پورا کرنے کے بعد وکیل اجرت کا مستحق ہوگا  لیکن اگر  اجرت کی شرط نہ ہو اور نہ وکیل  لوگوں میں اجرت پر کام کرنے میں مشہور ہو  تو اس صورت میں وکیل اجرت کا مستحق  نہیں ہوگا   اور  اگر وکالت میں  وکیل کےلیے اجرت متعین نہ ہو لیکن وہ اجرت پر کام کرنے میں مشہور ہو   تو  اس صورت میں وہ وکیل اجرت کا مستحق ہوگا۔

            لہذا صورت  مسئولہ کے مطابق اگر قربانی میں شریک ایک فرد  کو اجرت پر جانور خریدنے کےلیے  وکیل بنا دیا ہو اور اس کے اجرت بھی متعین  کی ہو تو جانور خریدنے کے بعد وہ شریک مقررہ اجرت کا مستحق ہوگا  لیکن اگر پہلے سے اجرت متعین نہ ہو اور نہ ہی وہ وکیل اجرت پر کام کرنے میں مشہور ہو     تو پھر شریک کےلیے اجرت کا مطالبہ کرنا  جائز نہیں۔

 

(إذا شرطت الأجرة في الوكالة وأوفاها الوكيل استحق الأجرة، وإن لم تشترط ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا. فليس له أن يطالب بالأجرة... أما إذا كان ممن يخدم بالأجرة يأخذ أجر المثل ولو لم تشترط له أجرة.(درر الحكام في شرح مجلة الاحكام،المادة:1467،إذا شرطت الأجرة في الوكالة،ج:3،ص:573)


فتویٰ نمبر : 3032/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں