بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

طواف کے بعد دو رکعت نماز


سوال

اگر کوئی شخص طواف کرنے کے بعد دو رکعت نماز پڑھے بغیر دوسرا طواف کرے  اسی طرح تیسرا اور پھر چوتھا کرے  اور آخر میں  جتنے  طواف کیے  ہیں  سب کے لیے علیحدہ علیحدہ دو  رکعت  نماز پڑھ لے تو کیا اس طرح کرنا جائز ہے؟

جواب

            واضح رہے کہ ہر فرض اور نفلی طواف   کے بعد مقام ابراہیم میں یا مسجد حرام کی کسی اور جگہ میں دو رکعت نماز پڑھنا واجب ہے  بغیر کسی عذر کے اس میں تاخیر کرنا مکروہ ہے تاہم اگر کوئی شرعی عذرہو جیسا کہ مکروہ وقت؛تو اس میں تاخیر کی گنجائش ہےتاہم یہ ذمہ سے ساقط نہیں ہوتا۔

            لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص ایک طواف کے بعد  دوسرا طواف کرے اسی طرح تیسرا اور چوتھا کرےاور بغیر کسی عذر کے  درمیان میں دو رکعت نماز نہ پڑھے تو یہ مکروہ ہے تاہم مکروہ وقت ہونے کی وجہ سے یاکسی اور عذر کی وجہ سے  درمیان میں دو رکعت نماز نہ پڑھے اور پھر آخر میں جتنے طواف کیے  ہیں سب  کے لیے علیحدہ علیحدہ دو  رکعت نماز پڑھے  تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

 

ولو طاف أسابيع فعليه لكل أسبوع ركعتان على حدة ولو شك في عدد الأشواط في طواف الركن أو العمرة.(البحر الرائق،باب الاحرام :الاغتسال ودخول الحمام للمحرم،ج:2،ص:356)

ويكره تأخيرها عن الطواف إلا في وقت مكروه أي؛ لأن الموالاة سنة، ولو طاف بعد العصر يصلي المغرب ثم ركعتي الطواف ثم سنة المغرب ولا تصلى إلا في وقت مباح.(البحرالرائق، باب الاحرام :الاغتسال ودخول الحمام للمحرم،ج:2،ص:356)

(قال)، ويكره أن يجمع بين أسبوعين من الطواف قبل أن يصلي في قول أبي حنيفة ومحمد رحمها الله تعالى.(المبسوط للسرخسي، باب الطواف:الطواف قبل طلوع الشمس،ج:4،ص:47)

(قوله قولان) لم أر من حكى القولين، سوى ما توهمه عبارة النهر وفيها نظر والمشهور في عامة الكتب أن صلاتها في المسجد أفضل من غيره، وفي اللباب: ولا تختص بزمان ولا مكان ولا تفوت فلو تركها لم تجبر بدم، ولو صلاها خارج الحرم، ولو بعد الرجوع إلى وطنه جاز ويكره.(رد المحتار على الدر المختار،فصل في الإحرام وصفة المفرد،ج:2،ص:499)


فتویٰ نمبر : 9134/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں