بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

فروختگی کے بعد مبیع میں کمی کا پیدا ہونا


سوال

زیدنے بکر سے کہا کہ فلاں جگہ  مشترکہ زمین میں 40کنال میری ملکیت ہے. آپ مجھے 50لاکھ روپے دےدو ،مشترکہ زمین کی تقسیم کے بعد میں آپ کو 40کنال زمین حوالہ کروں گا بکرنے روپےحوالہ کر دیے ،کچھ وقت  بعد تقسیم میں زمین کم نکلی، اب بکر زید سے کم زمین کے عوض موجودہ قیمت وصول کرنا چاہتاہے اب سوال یہ ہے کہ کیا بکر کا  زیدسے موجودہ قیمت کا مطالبہ کرنا جائزہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے جب مذروعی اشیا(پیمائش کے ذریعے بیچی  جانے والی اشیا) کی بیع ایک متعین مقدار کے ساتھ طے ہو جائے اور خرید وفروخت کے بعد وہ چیز كم نكلے تو مشتری کو اختیار ہے چاہے تو اس چیز  كو كل   قيمت كے ساتھ خریدلے یا چھوڑ دےاور اگروہ چیز  زیادہ   نکلے تو زیادتی مشتری کا حق ہوتا ہے بائع کا نہیں ،اس لیے کہ پیمائش مبیع کا ایک وصف ہے اور  قیمت اصل کے مقابلے میں ہوتی ہے وصف کے مقابلے میں نہیں ۔البتہ جہاں کہیں وصف مقصود قرار دیا جائے تو اس وقت وہ وصف معتبر ہوگی لہذا اس کی وجہ سے ثمن میں کمی بیشی کرنا جائز ہے ۔

           لہذا صورت مسئولہ  کے مطابق اگر زید نے بکر کو مشترکہ زمین میں سے 40 کنال زمین کوفروخت کی  ہواور اس کے عوض پچاس لاکھ روپے وصول کر لیے ہوں  لیکن تقسیم کے بعد معلو م ہو جائے کہ فروخت  کرنے والے کا زمین میں حصہ   چالیس کنال سے کم ہےتو زمین میں کمی ایک وصف ہے تاہم40 کنال کہہ کر فروخت کرنا وصف کو اہمیت دینے کے مترادف ہے اس لیے مشتری کو اختیار ہے چا ہے تو اس چیز  کو زمین کے بقدر ثمن سے  خرید لے یا چھوڑ دے البتہ زمین کی مقدار سے جو زیاد ہ ثمن ادا کیا ہے چونکہ اس کے مقابلے میں زمین موجود نہیں تو  وہ مشتری کا حق ہےاور بائع کے ذمے لازم ہے کہ اس اضافی رقم کو واپس کردے اور اس ميں بيع كے وقت اداشدہ  قیمت کا اعتبار ہوگا۔

 

وإن وجدها أكثر من الذراع الذي سماه فهو للمشتري ولا خيار للبائع"؛ لأنه صفة، فكان بمنزلة ما إذا باعه معيبا، فإذا هو سليم "ولو قال بعتكها على أنها مائة ذراع بمائة درهم كل ذراع بدرهم فوجدها ناقصة، فالمشتري بالخيار إن شاء أخذها بحصتها من الثمن، وإن شاء ترك"؛ لأن الوصف وإن كان تابعا لكنه صار أصلا بإفراده بذكر الثمن۔(الهداية،كتاب البيوع،ج:3،ص:25)

وحاصل ما مر: أنه على قول أبي يوسف المفتى به لا فرق بين الكساد والانقطاع والرخص والغلاء في أنه تجب قيمتها يوم وقع البيع أو القرض لا مثلها، وفي دعوى البزازية۔(ردالمحتار علی الدرالمختار،کتاب البیوع،ج:7 ص:56)


فتویٰ نمبر : 3029/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں