بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

پاکستان کے کسی علاقہ میں سعودی عرب کے ساتھ قربانی کرنا


سوال

ایک پاکستانی سعودی عرب والوں کے ساتھ قربانی کر سکتا ہے یعنی پاکستان میں عید نہ ہو اور عید کی نماز بھی نہ پڑھی ہو؟

جواب

            جو شخص جس علاقے اورجس ملک میں رہتا ہے توروزہ، عید اور قربانی میں اسی جگہ کی رؤیت اور فیصلے کا پابند ہوگا، اسی طرح شہر میں قربانی کے لیے ایک زائد شرط یہ بھی ہے کہ عید کی نماز کے بعد قربانی کی جائے۔چنانچہ شہر میں عید کی نماز سے پہلے قربانی کرنا یاکسی اور علاقے یا ملک کی رؤیت اور حساب پر اس کے لیے روزہ رکھنا  جائز نہیں۔

            صورت مسئولہ میں جو لوگ پاکستان میں مقیم ہیں۔وہ اپنی مقامی رؤیت کے اعتبار سے عید وقربانی کا اہتمام کریں۔ کسی کا انفرادی طور پر سعودی عرب کی رؤیت اور حساب پر عید وقربانی کرنا جائز نہیں ،ایسی قربانی سے ذمہ فارغ نہ ہوگا۔

 

عن أبي هريرة : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال الصوم يوم تصومون والفطر يوم تفطرون والأضحى يوم تضحون۔(سنن الترمذی ج:1 ص:88)

واما الذی یرجع الی وقت التضحية، فهو انها لا تجوز قبل دخول الوقت،لان الوقت کما هو شرط الوجوب،فهو شرط جواز اقامة الواجب ۔۔۔ غير أن للجواز في حق أهل المصر شرطا زائدا وهو أن يكون بعد صلاة العيد، لا يجوز تقديمها عليه عندنا. (بدائع الصنائع،کتاب التضحية، فصل فی شروط جواز اقامة الواجب ج:6 ص:308)         


فتویٰ نمبر : 9142/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں