بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نمازِ جنازہ کے بعد تعزیت


سوال

 ایک شخص نمازِ جنازہ میں شریک ہوا تو اس کا دوبارہ تعزیت کے لیے جانا مسنون ہے یا نہیں؟

جواب

            حدیثِ مبارکہ میں ایک مؤمن کے دوسرے مؤمن پر چند حقوق بیان کیے گئے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ جب وہ فوت جائے تو اس کے جنازے میں شرکت کی جائے، جب کہ تعزیت میت کے اہلِ خانہ کے لیے تسلی اور صبر کی تلقین کا نام ہے کیونکہ وہ مصیبت زدہ ہوتے ہیں اور احادیثِ مبارکہ میں مصیبت زدہ کی تعزیت کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ تعزیت جنازہ سے پہلے بھی کی جا سکتی ہے اور بعد میں بھی، لیکن افضل یہ ہے کہ بعد میں کی جائے، البتہ اگر جنازہ کے دوران ایک مرتبہ میت کے رشتہ داروں سے تعزیت کر دی تو دوبارہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

 

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِلْمُؤْمِنِ عَلَى المُؤْمِنِ سِتُّ خِصَالٍ، يَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ وَيَشْهَدُهُ إِذَا مَاتَ، وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ، وَيُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ، وَيُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ، وَيَنْصَحُ لَهُ إِذَا غَابَ أَوْ شَهِدَ»۔ (سنن الترمذي، باب ما جاء في تشميت العاطس، رقم الحديث: 2737)

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من عزى مصابا فله مثل أجره»۔(سنن ابن ماجه، باب ما جاء في ثواب من عزى مصابا، رقم الحديث:1602)

(ومما يتصل بذلك مسائل) التعزية لصاحب المصيبة حسن، كذا في الظهيرية، وروى الحسن بن زياد إذا عزى أهل الميت مرة فلا ينبغي أن يعزيه مرة أخرى، كذا في المضمرات و وقتها من حين يموت إلى ثلاثة أيام ويكره بعدها إلا أن يكون المعزي أو المعزى إليه غائبا فلا بأس بها وهي بعد الدفن أولى منها قبله وهذا إذا لم ير منهم جزع شديد فإن رئي ذلك قدمت التعزية ويستحب أن يعم بالتعزية جميع أقارب الميت الكبار والصغار والرجال والنساء إلا أن يكون امرأة شابة فلا يعزيها إلا محارمها، كذا في السراج الوهاج. (الفتاوي الهندية، الفصل السابع في الشهيد، ج:1، ص:183)


فتویٰ نمبر : 9129/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں