بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

ذبح کرتے وقت جانور اور ذبح کرنے والے کا قبلہ رخ ہونا


سوال

جانور کو ذبح کرتے وقت صرف جا نور کا قبلہ رخ لٹانا  سنت ہے یا جانور اور ذبح کرنے والے دونوں کا قبلہ رخ ہونا سنت  ہے؟جمہور فقہاے احناف کے  نزدیک تحقیقی بات کی طرف رہنمائی فرمائیں ۔

جواب

           واضح رہے کہ صحابہ کرام ؓاس بات کو پسند فرماتے تھے کہ ذبح کے دوران قبلہ رخ ہوں لہذا  جانور کو ذبح کرنے کے لیے قبلہ رخ لٹایا جائےاور خود ذبح کرنے والا بھی قبلہ رخ ہو  اورجب  تک کوئی معتبرعذر نہ ہو قبلہ رخ ہوئے بغیر ذبح کرنے سے اجتناب  کیا جائے ۔ لہذا جانور کا قبلہ رخ لٹانااورذبح کرنے والے کا قبلہ رخ ہونا؛دونوں امر سنت سے ثا بت  ہیں اور بلا عذراس کا ترک مکروہ ہے ۔

 

(ومنها) أن يكون الذابح مستقبل القبلة والذبيحة موجهة إلى القبلة لما روينا ولما روي أن الصحابة - رضي الله عنهم - كانوا إذا ذبحوا استقبلوا القبلة فإنه روي عن الشعبي أنه قال: كانوا يستحبون أن يستقبلوا بالذبيحة القبلة، وقوله: " كانوا " كناية عن الصحابة - رضي الله عنهم - ومثله لا يكذب ولأن المشركين كانوا يستقبلون بذبائحهم إلى الأوثان فتستحب مخالفتهم في ذلك باستقبال القبلة التي هي جهة الرغبة إلى طاعة الله عز شأنه.(بدائع الصنائع كتاب الذبائح والصيود،ج:5،ص:60)

(و) كره (ترك التوجه إلى القبلة) لمخالفته السنة.وقال ابن عابدين :(قوله لمخالفته السنة) أي المؤكدة لأنه توارثه الناس فيكره تركه بلا عذر أتقاني۔(الدر المختار مع رد المحتار،كتاب الذبائح،ج:6،ص:296) 


فتویٰ نمبر : 9139/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں