بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

فقرا اور اغنیا کی مشترکہ قربانی میں عیب کا پیدا ہونا


سوال

سات آدمیوں نے مل کر قربانی کا جانور خریدا، جن میں اغنیااور فقرا( غیر صاحب نصاب ) شریک تھے ،اب اس جانور میں ایسا عیب پیدا ہو گیا ہے جو قربانی سے مانع  ہےتو ایسی صورت میں یہ سب مل کر نیا جانور خریدیں گے یا صر ف اغنیاخریدیں گے اورفقرا اسی جانور کو  ذبح کریں گے ؟

جواب

             واضح رہے کہ جس عیب سے جانور کی کوئی مخصوص منفعت یا خوبصورتی بالکل  ختم ہو جائے تو اس عیب کے ہوتے ہوئے قربانی درست نہیں ہوتی اورصاحب نصاب شخص کے لیے اس جانور کی قربانی جائز  نہیں اس پر دوسرے صحیح جانور کی قربانی کرنا ضروری ہے اور اگر یہ شخص غریب  یعنی صاحب نصاب نہ ہو تو اس کے لیے اس جانور کی قربانی جائز ہے ۔

             مسئولہ صورت میں اگرسات آدمیوں نے مل کر قربانی کا جانور خریداہو جن میں اغنیا اور فقرا دونوں شریک  ہوں اوراب اس جانور میں ایسا عیب پیدا ہو گیا ہوجو قربانی سے مانع  ہو  تو مالدار شرکا کے لیے اس  جانور کی قربانی جائز  نہیں ان پر دوسرے صحیح جانور کی قربانی کرنا ضروری ہے اور دوسرے غریب شرکا کے لیے اس جانور کی قربانی جائز ہے تاہم چونکہ یہ جانور فقرا اور اغنیا کے مابین مشترک ہے تو اگر مالدار بھی اس جانور  کی قربانی پر راضی ہیں تو غربا کی طرف سے وجوبی اور اغنیا کی طرف سے استحبابی طور پر ادا ہو جائے گی البتہ اگر اغنیا راضی نہ ہوں تو چونکہ مکمل جانور غربا کی ملکیت میں نہیں لہذا اس کو  فروخت کرکے  اغنیا کے حصوں کے بقدر رقم واپس کر دی جائے اور غربا کے حصوں  کو صدقہ کر دیا جائے  ۔

 

وفي ظاهر الرواية يتعين للأضحية بالشراء؛ لأن الشراء من الفقير بنية الأضحية بمنزلة النذر عرفا، وعادة؛ لأنا لا نجد في العرف فقيرا اشترى شيئا للأضحية إلا ويضحي بها لا محالة فكان بها ملتزما۔(تبيين الحقائق،كتاب الأضحية،ج:6،ص:478)

ثم كل عيب يمنع الأضحية ففي حق الموسر يستوي أن يشتريها كذلك أو يشتريها وهي سليمة فصارت معيبة بذلك العيب لا تجوز على كل حال، وفي حق المعسر تجوز على كل حال، كذا في المحيط.(الفتاوى الهندية،كتاب الأضحية،ج:5،ص:299)


فتویٰ نمبر : 9140/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں