بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

سوتیلی بیٹیوں کے لیےزیورات کی وصیت کرنا


سوال

 ایک عورت نے مرنے سے پہلےاپنے  شوہر کی دوسری بیوی کی  بیٹیوں کے لیے دو تولہ سونے کی وصیت کی  مرحومہ کے دیگر ورثا(حقیقی بیٹے اور بیٹیاں )بھی ہیں،تو کیا یہ وصیت جائز ہے یا نہیں؟ وضاحت فرمائیں۔

جواب

            واضح رہے کہ غیر وارث کے لیےکل مال کے ایک تہائی حصے میں وصیت نافذ ہوتی ہے،اس سے زائدمال میں معتبر نہیں،چنانچہ باقی ترکہ ورثا میں شرعی اصول کے تحت تقسیم کیا جائے گا،البتہ اگر ورثا میں کوئی نابالغ نہ ہو اور تمام ورثا میت کی وصیت کو ایک تہائی سے زائدمال میں بھی جاری کرنا چاہیں تو شرعاً جائز ہے۔

            لہذاصورت مسؤلہ میں شوہر کی دوسری بیوی کی بیٹیاں مرحومہ کے ورثا میں سے نہیں  اس  لیےان کےحق میں وصیت جائز ہے،اگر مرحومہ کے ترکہ میں مذکورہ دو تولہ سونے کے علاوہ مال ہےتو اس صورت میں یہ دو تولہ سونااگرکل ترکہ کا ثلث ہےیا اس سے کم ہے تودونوں صورتوں میں یہی دو تولہ سونا وصیت کے طور پر ان  کو دیا جائے گا،اوراگر ثلث  سے زیادہ  ہے تو صرف ثلث کے بقدرسوناان کو دیا جائے گا البتہ اگر  دیگرورثا راضی ہوں  توسونے کا باقی حصہ بھی ان کو دینا جائز ہے،لیکن  اگرکل ترکہ صرف یہی دو تولےسونا ہے تو اسے تین حصےکرکے ایک تہائی حصہ  وصیت کے طور پر ان کو دیا جائےگااور باقی دو حصے ورثا  میں تقسیم کیےجائیں گے ، تاہم اگر دیگر ورثا راضی ہو ں تو سونے کا  باقی ماندہ حصہ بھی ان  کو دینا جائز ہے ۔

 

ثم تصح الوصية لأجنبي من غير إجازة الورثة، كذا في التبيين ولا تجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار۔(الهنديه، كتاب الوصايا، باب في صفة الوصية ما يجوز من ذلك، ج:4، ص:638)           


فتویٰ نمبر : 3250/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں