بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

دوسرے کے فعل نہ کرنے کے ساتھ قسم معلق کرنا


سوال

اگر کوئی شخص قران پر ہاتھ رکھ کر یہ کہے کہ کلام اللہ کی قسم اگر زید لاہور نہیں جائے گا تو میں بھی نہیں جاوں گا  اس کے بعد زید لاہور گیا تو کیا اس شخص پر کفارہ حنث واجب ہو گا یا نہیں ؟

جواب

           شریعت مطہرہ  کی رو سے  جو شخص آئندہ کے لیے کسی کام کے  کرنے یا نہ کرنے پر قسم کھا ئے تو اس کو یمین منعقدہ کہا جاتا ہے۔ جب کوئی اس قسم کو توڑ ڈالے تو اس  پر قسم کا  کفارہ لازم ہو جاتا ہے اسی طرح قران کریم پر قسم کھانا بھی عرفا قسم شمار ہوتا ہے جب قسم کے الفاظ پر تکلم  کیا جائے۔

         لہذا صورت مسئولہ کے مطابق  اگر واقعتا مذکورہ شخص نے قران پر ہاتھ رکھ کرقسم کے الفاظ کہے ہو تو شرعا یہ یمین ہے لہذ ااس کے بعد اگر  زید لاہور گیا ہواور یہ شخص بھی لاہور جائے  یا دونوں نہیں گئے ان دونوں صورتوں میں وہ حانث نہیں ہو گا لہذا کفارہ لازم نہیں ہو گی۔لیکن اگر زید نہ گیا ہو صرف یہ شخص لاہور گیا ہو یا دوسری صورت یہ ہے کہ زید لاہور گیا ہو اور یہ رہ چکا ہو ،ان دو صورتوں میں قسم توڑنے  کی وجہ سے کفارہ لازم ہوتا ہے۔    

 

لو حلف بالقرآن قال: يكون يمينا، وبه أخذ جمهور مشايخنا رحمهم الله تعالي (الفتاوی الھندیۃ،كتاب الأيمان ، الفصل الأول في تحليف الظلمة،ج2،ص59)

وشرطها الإسلام والتكليف وإمكان البر. وحكمها البر أو الكفارة. وركنها اللفظ المستعمل فيها۔(الدرالمختارعلی صدرردالمحتار،كتاب الأيمان،ج5،ص473)


فتویٰ نمبر : 5037/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں