بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

حج یا عمرے کے لیے جاتے وقت لوگوں سے معافی مانگنا


سوال

بعض لوگوں کا خیا ل ہے کہ حج یا عمرہ  کے  لیے روانگی سے پہلے  اپنے عزیز و اقارب میں اگر کوئی ناراض ہو یا کسی اختلاف کی وجہ سے بول چال بند کر دیا ہو  یا اس پر کسی کا حق ہو تو اس سے معافی مانگنی چاہیے ورنہ حج یا عمرہ قبول نہیں ہوتا، شرعا اس کی حقیقت کیا ہے؟

جواب

             واضح رہے کہ  حج  یا عمرےکے لیے جاتے  وقت لوگوں سے معافی  تلافی کرنا ایک رائج عمل ہے  اور یہ اچھی بات بھی ہے،کیونکہ یہ سفردوراورسعادت والی ہے لہذا  اس آدمی کے ذمے اگر کسی فرد یا ادارے  کا کوئی مالی حق  ہو  تو ان کو ادا کر ے اور اگر استطاعت نہ ہو تو معافی کی درخواست کرے۔ اسی طرح اگر  کسی پر ظلم کیا ہو ،کسی کو ستایاہو، کسی کو نقصان پہنچایا ہو  وغیرہ   ان سب سے معافی مانگنے کے بعد جانا  چاہیے ۔لہذا   اگر کوئی شخص حج یا عمرہ پر روانگی سے پہلے اپنے عزیز واقارب سے صلح صفائی کی غرض سے معافی مانگے تو عزیز و اقارب کو بھی چاہیے کہ اسے دل سے معاف کرے ،ایسے موقعوں کو غنیمت سمجھ کر آپس کی رنجشوں  کو دور کرنا چاہیے،تاہم لوگوں سے معافی کی درخواست کو ضروری سمجھنا اور یہ خیال كرنا درست نہیں کہ معافی مانگے بغیر  حج یا عمرے پر جانے والے کا حج یا عمرہ  قبول نہیں ہوتا ۔ اسی طرح حج یا عمرے پر جانے والے کے لیے بھی رسمی طور پر معافی نہیں مانگنی چاہیے تاکہ وہ واپس آکر اپنے عزیز واقارب کے ساتھ وہی پرانی روش اختیا ر کرے ۔

 

(وأما آدابه) فإنه إذا أراد الرجل أن يحج قالوا ينبغي أن يقضي ديونه كذا في الظهيرية ويشاور ذا رأي في سفره في ذلك الوقت لا في نفس الحج فإنه خير، وكذا يستخير الله تعالى في ذلك، وسنتها أن يصلي ركعتين بسورة الإخلاص ويدعو بالدعاء المعروف للاستخارة عنه عليه السلام  ثم يبدأ بالتوبة، وإخلاص النية ورد المظالم والاستحلال من خصومه، ومن كل من عامله كذا في فتح القدير وقضاء ما قصر في فعله من العبادات، والندم على تفريطه في ذلك، والعزم على عدم العود إلى مثل ذلك۔(الفتاوی الھندیة،كتاب المناسك، الباب الأول في تفسير الحج وفرضيته،ج:1،ص:283)

ينبغي لمريد الحج أو الغزو أن يستأذن أبويه لكراهة الخروج مع كراهة أحدهما وهو محتاج إلى خدمته لا أن كان مستغنيا ۔ ۔ ۔ وينبغي للمديون أن يستأذن رب الدين ولو فقيرًا ولو كان به كفيل استأذنه أيضا ثم يستخير الله سبحانه وتعالى كذا قالوا ومعناه هل يشتري أو يكتري وهو يسافر في البحرأو في البر وهل رافق فلانا أو لا ۔ ۔ ۔  ويشاوره الرأي في سفره في وقت معين لا في الحج ثم يبدأ بالتوبة مراعيا شروطها في رد المظالم إلى أهلها عند الإمكان وقضاء ما قصر في فعله من العبادات والندم على تفريطه والعزم على أن لا يعود والاستحلال من ذوي الخصومات والمعاملات ويجتهد في تحقيق نفقة حلال ولا بدله من رفيق صالح يذكره ۔ ۔ ۔ (النھرالفائق، کتاب الحج ،ج:2، ص:52)


فتویٰ نمبر : 9131/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں