بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

والد کا اپنے بیٹوں کو زندگی میں گھر ہبہ کرنا


سوال

ہم پانچ بھائی اور چار بہنیں ہیں  اور ہمارے والد  صاحب وفات پا  چکا ہے ۔لیکن اس نے  اپنی زندگی میں الگ الگ پلاٹس کو تقسیم کر کےتین بھائیوں کو  غیر تعمیر شدہ جبکہ دو کو تعمیر شدہ پلاٹس دیے  تھے ۔اور ہم بھائیوں کو پورا قبضہ اور حق تصرف بھی  اپنی زندگی میں دیا تھا  ۔ دو بھائیوں نے والد کی زندگی  میں ان پلاٹس  میں   تعمیر  کا کام بھی کیا تھا  اور ایک نے اپنے غیر تعمیر شدہ پلاٹ میں درخت بھی لگا   دیے   تھے ۔لیکن والد صاحب نے کوئی دخل اندازی نہیں کی  تھی جبکہ  بڑے بھائی نے والد کی زندگی  میں اپنے پلاٹ  کرائے پر دیا   تھا اور اس کا کرایہ بھی  وصول کرتا رہا۔ ہمارے والد صاحب نے    تقسیم  کے وقت  اشٹامپ پیپر میں یہ با ت لکھی تھی کہ  میرے تمام جائیداد میں بیٹیوں کا  حصہ ہو گا اور یہ زبانی کہا تھا کہ ان پلاٹس  میں بیٹیوں کا حصہ نہیں ہو گا  اور باقی جائیداد میں حصہ ہو گا اور عملا تقسیم کرتے وقت بھی ان کا  حصہ مقرر نہیں کیا ۔ ہم نے والد صاحب کی وفات  کے بعد باقی جائیداد   تقسیم کرائی اور زمین بھی تقسیم ہونے والی ہے،لیکن   والدکے حکم    کے مطابق  ان پلاٹوں میں ہم نے     بہنوں کو حصہ نہیں دیا  کیا ان پلاٹس میں ہمارے ساتھ بہنوں کا حصہ بنتا ہے یا  نہیں ؟

جواب

            اگر کوئی شخص  اپنی زندگی میں ببقائے ہوش وحواس اپنی مملوکہ جائیداد کسی کو ہبہ کرے تو اس کا یہ فعل شرعا معتبر سمجھا جا ئے گا ۔ موہوب لہ کا موہوبہ چیز پر قبضہ کرنے سے وہ ہبہ کرنے والے کی ملک سے نکل کر موہوب لہ یعنی (جس کے لیے ہبہ کیا گیا ہو) کی ملک میں داخل ہو گی ۔مالک بننے  کے بعد موہوب لہ جس طرح چاہے اس میں ما لکانہ تصرف کرسکتا ہے۔

            لہذا صورت مسئولہ کے مطابق  اگر واقعتا والد نے اپنی زندگی میں  ببقائے  ہوش وحواس اپنے پانچ بیٹوں کے درمیان  کچھ پلاٹ تقسیم کیے تھے اور ان کو قبضہ اور حق تصرف بھی  دے دیا  تھا  تو یہ ان کے ليےہبہ ہے ، لہذا ان  پلاٹس میں ان کے ساتھ بہنیں شریک نہیں ہوں گی ۔

 

تنعقدالهبة بالإيجاب والقبول وتتم بالقبض الكامل لانها من التبرعات ، والتبرع لا يتم الا بالقبض۔(شرح المجلة لرستم باز،المادة:837،ص:462)

من وهب لأصوله وفروعه أو لأخيه أو لأخته أو لأولادهما أو لعمه وعمته شيئا فليس له الرجوع۔(شرح المجلة لرستم باز،المادة:866،ص:476)


فتویٰ نمبر : 5011/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں