بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

ایزی پیسہ کے بجائے اپنے اکاؤنٹ میں پیسے منتقل کرکے اجرت لینا


سوال

میں ایزی پیسہ کاکام اس طرح کر رہا ہوں کہ کسٹمر کے اکاؤنٹ سے رقم اپنے اکاؤنٹ میں منتقل کرکے جتنی رقم ایزی پیسہ والے 1000 میں کاٹتے ہیں میں بھی اتنی مقدار میں کاٹتا ہوں آیا اس طرح کرنا میرے لیے جائز ہے؟

جواب

            واضح رہے کہ کسی متعین شخص، کمپنی، یا ادارہ کی جانب سے اجرت کے عوض کسی کام پر  مامور شخص اجیر کہلاتا ہے، پھر وہ اجیر اگر صرف مستاجر ہی کے واسطے کام کرنے کی لیے اجارہ پر رکھا گیا ہو تو اجیر خاص، اور اگر کسی ایک متعین شخص یا کمپنی کی لیے کام کر نے پر مامور نہ ہو، بلکہ وہ ہر کسی کے لیے کام کرنے میں آزاد ہو، تو وہ اجیر مشترک کہلائے گا۔​

          صورت مسئولہ میں دوکاندار کا ایزی پیسہ والوں کے ڈیوائس کی بجائےاپنے ذاتی اکاؤنٹ میں کسٹمر کی رقم منتقل کرنا اور کسٹمر کو رقم دینااور اس سہولت وخدمات کی فراہمی کے عوض اجرت لینا جائز ہے کیونکہ دکاندار اجیر مشترک ہے نہ کہ اجیر خاص،  تاہم کسٹمر کے ساتھ اجرت پہلے سے متعین کرنا ضروری ہے  تاکہ بعد میں  تنازع کاسبب نہ بنے۔

 

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الْمُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ. (سنن أبو داؤد، باب الصلح، جلد:2، رقم الحدیث:3594)

وإن وردت الإجارة على العمل كالخياطة والصبغ، فلا يجب الأجر مالم يفرغ الأجير من العمل۔ (شرح المجلة لسليم رستم باز، كتاب الإجارة، باب ضمان الأجير، ج:9، ص:94)

(فالأول من يعمل لا لواحد ) كالخياط ونحوه ( أو يعمل له عملا غير موقت ) كأن استأجره للخياطة في بيته غير مقيدة بمدة كان أجيرا مشتركا وإن لم يعمل لغيره ( أو موقتا بلا تخصيص ) ۔۔۔۔۔ ( ولا يستحق المشترك الأجر حتى يعمل۔  (الدر المختارعلی صدرردالمحتار ، كتاب الإجارة، باب ضمان الأجير ،ج:9، ص:88)

لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي۔ (البحر الرائق ، فصل في التعزير ، ج:5، ص:68)


فتویٰ نمبر : 3037/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں