بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/09/2026

دارالافتاء

 

رب المال کے لیے متعین نفع مقررکرنا


سوال

اگر ایک شخص دوسرے کوایک مخصوص کاروبارکرنے کےطور پر5 لاکھ رقم دےدے  اور اس سے کہے کہ مجھے ماہانہ 20 ہزار روپے نفع  دوگے اس کے بعد مضارب وہ رقم اس کاروبار کی بجائے ذاتی ضروریات میں خرچ کرے،مہینہ گزرنے کے بعد رب المال  مقرر کردہ 20 ہزار نفع کا مطالبہ کرسکتا یا نہیں ؟

جواب

          اگر دو آدمی کاروبار میں اس طور پر شریک ہوں، کہ ایک جانب سے مال ہواور دوسری طرف سے  کاروبار اور عمل ہو اور نفع دونوں متعین فی صد کے اعتبار سےطے کرلیں  تو ایسے عقد کو عقد مضاربت کہا جاتا ہے۔مضاربت میں ضروری ہے  کہ نفع فی صد اور حصہ  کے لحاظ سے متعین کیا جائے لہذا اگر طرفین میں سے کسی کے لیے کوئی مخصوص  رقم نفع میں متعین ہو تواس  سے یہ عقد فاسد  ہوجاتا ہے۔

         صورت مسؤلہ کے مطابق چونکہ رب المال کےلیے نفع کی تقسیم میں مخصوص رقم متعین ہےاس ليےیہ معاملہ شرعا ناجائز ہے،اور مضارب نے مالک کی اجازت کے بغیراگراس رقم کو کسی اور کام میں استعمال کیا ہوتو مضارب غاصب متصورہوگالہذا مالک کی جتنی رقم مضارب نے خرچ کی ہے  اتنی ہی رقم مالک کو واپس کرنا ضروری ہوگا، اور اگراس مال پر وہ مخصوص کاروبارنہیں ہوا تو رب المال (مالک)نفع کا مطالبہ نہیں کرسکتا۔

 

"ومن شرطها ‌أن ‌يكون ‌الربح ‌بينهما ‌مشاعا لا يستحق أحدهما دراهم مسماة" من الربح ۔۔۔لفساده ‌فلعله ‌لا ‌يربح إلا هذا القدر۔(الهداية،كتاب الضاربة،ج:3،ص:263)

‌فإذا ‌خالف ‌شرط ‌رب ‌المال صار بمنزلة الغاصب، ويصير المال مضمونا عليه، ويكون ربح المال كله بعد ما صار مضمونا عليه له؛ لأن الربح بالضمان۔(بدائع الصنائع،كتاب المضاربة،فصل في بيان احكام المضاربة،ج:8،ص:27)

(وأما) الذي ‌يستحقه ‌رب ‌المال، فالربح المسمى إذا كان ربح، وإن لم يكن فلا شيء له على المضارب۔(بدائع الصنائع،كتاب المضاربة،فصل في بيان احكام المضاربة،ج:8،ص:29)


فتویٰ نمبر : 3017/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں