بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

ٹھيکیدار كا بل پاس كروانے كے ليے رشوت دينا


سوال

ایک شخص سرکاری  ٹھیکےداری   کا کام شروع کرنا چاہتا ہے  مگر اس کام کے شروع کرنے کے بارے میں تذبذب کا شکار ہے   کیوں کہ اس کا م میں عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ گورنمنٹ پراجیکٹ میں ٹھیکےدار  کو کنٹریکٹ ملنے کے بعد ہر بل پاس کر وانے کے لیے مختلف دفاتر میں جانا پڑتا ہے اور اس بل کو پاس کرنے کے لیے دفتر والے اپنا طے شدہ کمیشن لیتے ہیں اور نہ دینے کی صورت میں بل پاس نہیں  ہوتا ،اب سوال یہ ہے کہ کیا دفتر والوں کا کمیشن لینا  جائز ہے ؟اور کمیشن ناجائز ہونے کی صورت میں ٹھیکے داری  کا کام شروع کرنا شرعاً کیسا ہے؟

جواب

        واضح رہےکہ رشوت دے کر ناجائز اور غلط طریقے سے اپنے مقصد کو حاصل کرنا یا کسی صاحب حق کا حق چھیننا ایک عظیم جرم اور سخت گناہ ہے اس لیے   ہر مسلمان کو رشوت دینے اور لینے سے اپنے آپ کو بچانا انتہائی ضروری ہے لیکن اگر کوئی شخص کسی عہدے یا چیز کا حقدار ہو اور رشوت کے بغیر اس کی وصولی ناممکن ہو تو فقہاےکرام کے ہاں ایسی حالت میں رشوت دے کر اپنے حق کے وصول کرنے کی گنجائش ہے البتہ رشوت لینے والے کے لیے یہ رقم لینا بہر حال ناجائز اور حرام ہے،اسی طرح اسلام ہر اس ملازم کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جو امانت داری کے ساتھ اپنا کام مقررہ وقت پر نبھائے اور اس میں ہر قسم کی کوتاہی سے باز رہے اور بغیر کسی لالچ اور خود غرضی کے احسن طریقے سے اپنا فریضہ سر انجام دے ۔

             صورت مسؤلہ کے مطابق اگر گورنمنٹ پراجیکٹ میں ٹھیکےدار  کو کنٹریکٹ ملنے کے بعد ہر بل پاس کر وانے کے لیے مختلف دفاتر میں  طے شدہ کمیشن ادا کرنا پڑتا ہے اور نہ دینے کی صورت میں بل پاس نہیں ہوتا تو  دفتر والوں کا کمیشن کے نام پر پیسے لینا  رشوت کے زمرے  میں آنے کی وجہ سے حرا م ہے کیوں کہ بل پاس کروانا ان کا فریضہ منصبی ہے جس کے  بدلے وہ حکومت سے تنخواہ لیتے ہیں لہذا اگر ٹھیکےدار اس بل کا مستحق ہو اور بغیر رشوت کے اس کا بل پاس نہ ہوتا ہوتو بامرِمجبوری ایسی حالت میں رشوت دے کر اپنے حق کے وصول کرنے کی گنجائش ہے البتہ رشوت لینے والے کے لیے لینا بہر حال ناجائز اور حرام ہے۔جب کہ ٹھیکیداری  ایک مباح کام ہے اصول اور دیانت داری سے کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں  تا ہم اگر  کہیں کام کرنے میں  اس بری خصلت  کے ارتکاب کرنے سے چھٹکارا نہ ہو تو بہتر یہی ہے کہ اس کی جگہ دوسرا جائز کاروبارشروع کیا جائے ۔

 

ومنها إذا دفع الرشوة خوفا على نفسه أو ماله فهو حرام على الآخذ غير حرام على الدافع، وكذا إذا طمع في ماله فرشاه ببعض المال ومنها إذا دفع الرشوة ليسوي أمره عند السلطان حل له الدفع ولا يحل للآخذ أن يأخذ۔(البحرالرائق، أخذ القضاء بالرشوة،ج:6،ص:285)

دفع المال للسلطان الجائر لدفع الظلم عن نفسه وماله ولاستخراج حق له ليس برشوة يعني في حق الدافع ۔(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الحظر والإباحة،ج:9،ص:607)


فتویٰ نمبر : 5003/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں