بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

قصر صلوۃ کے لیے وطن اقامت سے سفر شرعی کااعتبار کرنا


سوال

احمد کی سکونت پشاور میں والدین کے ساتھ تھی اب اس کے والدین پشاور کو بالکلیہ چھوڑ کر اسلام آباد منتقل ہو گئے ہیں،البتہ احمد کا ایک بھائی اب بھی پشاور میں رہتا ہے چونکہ احمد کوہاٹ میں تعلیم حاصل کر رہا ہے اور سکونت اصلیہ اسلام آبادمیں ہے تو ایسی صورت میں اگر احمد اپنے بھائی کے پاس پشاور والے گھر میں آتا ہے تو احمد پشاور میں قصر کرے گایا اتمام ؟یاد رہے کہ احمد   نے ابھی تک اسلام آباد میں ایک دن سے زیادہ نہیں گزارا ہے ۔

جواب

      واضح رہے کہ وطن اصلی وہ مکان ہے جس میں انسان مستقل سکونت اختیار کرےاور وہاں سے کوچ کر جانے کاارادہ نہ ہو چاہے وہ اس کا آبائی وطن ہو یا وہ جگہ ہو جہاں اس نے شادی کر کے اپنے اہل وعیال کے ساتھ سکونت اختیار کی ہو یا وہاں شادی کیے بغیر اپنے اہل وعیال بسائے ہوں اور مستقل رہنے کی نیت کی ہو ،لہذا اگر کسی بالغ آدمی کے والدین اس کےوطن اصلی کے علاوہ دوسری جگہ  رہائش  پذیر ہوں  تو  یہ ان کا تابع نہیں ہوگا تا ہم  اگر  والدین کے ساتھ مستقل سکونت اختیار کر کے وطن اصلی کو ترک کرنے کا عزم کر لے  تو ایسی صورت میں  یہ جگہ اس کے لیے بھی وطن اصلی بن جائے  گی۔

            صورت مسؤلہ کے مطابق اگر احمد نے  والدین  کے ساتھ پشاور کو بالکلیہ چھوڑ کر اسلام آباد میں مستقل رہنے کی نیت کی ہواور کوہاٹ میں تعلیم حاصل کر نے کی غرض سے اقامت اختیار کی ہو اور ایک مرتبہ اقامت کی مدت ( پندرہ دن یا اس سے زائد ) گزار چکا ہو  تو ایسی صورت میں اگر احمد اپنے بھائی کے پاس پشاور والے گھر میں آتا ہے تو احمد پشاور میں مکمل نماز ادا کرے گا کیوں کہ وطن اقامت  سے مسافر بننے اور قصر ِنماز کے وجوب کے لیے 48 میل سفر کرنا شرعاًمعتبرہے،جب کہ پشاور شہر اور کوہاٹ شہر کے درمیان فاصلہ اس سے کم ہے ۔

 

والحاصل: أن إنشاء السفر يبطل وطن الإقامة إذا كان منه أما لو أنشأه من غيره فإن لم يكن فيه مرور على وطن الإقامة أو كان ولكن بعد سير ثلاثة أيام فكذلك، ولو قبله لم يبطل الوطن بل يبطل السفر لأن قيام الوطن مانع من صحته۔(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الصلاة،باب صلوة المسافر،ج:2،ص:615)

(الوطن الأصلي) هو موطن ولادته أو تأهله أو توطنه(يبطل بمثله) إذا لم يبق له بالأول أهل، فلو بقي لم يبطل بل يتم فيهما۔۔۔۔

(قوله أو توطنه) أي عزم على القرار فيه وعدم الارتحال وإن لم يتأهل، فلو كان له أبوان ببلد غير مولده وهو بالغ ولم يتأهل به فليس ذلك وطنا له إلا إذا عزم على القرار فيه وترك الوطن الذي كان له قبله شرح المنية. ۔( الدر المختار مع رد المحتار ،كتاب الصلاة، مطلب في الوطن الأصلي ووطن الإقامة،ج:2،ص:131)


فتویٰ نمبر : 9123/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں