بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 14/08/2026

دارالافتاء

 

مکان یا دکان کرایہ پر دیتے وقت ایڈوانس لینا


سوال

آج کل لوگ گھر یا دوکان کا ایڈوانس لیتے ہیں تو یہ کیسا ہےیہ سود میں آتا ہے کہ نہیں؟

جواب

            شریعت مطہرہ میں متعین عوض کے مقابلے میں معلوم منفعت کا معاملہ  کرنا  اجارہ کہلاتا ہے،جس میں عوض لینے والےکو مؤجر اور منفعت وصول کرنے والے کو مستاجر کہتے ہیں،مؤجر کو بعض اوقات یہ  خطرہ ہوتا ہے  کہ مستاجر  دکان  یا گھر وغیرہ کو نقصان پہنچا کر یا بجلی اور گیس وغیرہ کا بل چھوڑ کر بھاگ نہ جائے،تو وہ اس خطرہ کے پیش نظرمستاجر سے ایڈوانس رقم لیتا ہے، یہ ایڈوانس رقم لینا ان کیلئے جائز ہے،البتہ اگرمستاجر نےایڈوانس رقم کو اس شرط کے ساتھ مشروط کیا ہو کہ اس کی وجہ سے موجرکرایہ میں معروف ریٹ سےکمی کرےتو سود ہونےکی وجہ سےیہ جائز نہیں ہے۔

  

الإجارة: عقد على المنافع بعوض.(مختصر القدوري،كتاب الاجارة،ج:1،ص:101)

رواه علي - رضي الله عنه - ولفظه: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: «كل قرض جر نفعا فهو ربا».(البناية شرح الهداية،كتاب البيوع،الحوالة مقيدة بالدين،ج:8،ص:493)


فتویٰ نمبر : 3031/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں