بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

خریدوفروخت میں بائع پر دوبارہ بیچنے کی شرط کا حکم


سوال

 اسلام آباد میں ایک تین منزلہ ہوٹل ہے۔جس میں مستفتی نے دوسری منزل ایک کمرہ ہوٹل کے مالک سے خریدا ہے۔مگر اس شرط پر کہ آپ میرے علاوہ اس کمرے کو کسی دوسرے پر فروخت نہیں کروگےاوراگر فروخت کروگے تو صرف مجھے یعنی مالک ہوٹل کو فروخت کرو گے۔اب فروخت کرنے کے بعد واپس مشتری سے ہوٹل مالک (بائع )نے  کرایہ پر لیا ہے۔اب مشتری ان شرائط کے ساتھ اس کمرہ کا مالک ہے اور بیع میں ان شرائط کا لگانا کیسا ہے؟

 

جواب

           واضح رہے کہ خریدوفروخت کا معاملہ کرتے وقت ایسی شرط لگانا جو عقد کے مقتضی کے خلاف ہو ، اور اس میں بیچنےوالے یاخریدنے والے کاکوئی فائدہ ہو،تو ایسی شرط خریدوفروخت کے معاملہ کو فاسد کر دیتی ہے،تاہم اگربائع مشتری سے صلب عقد میں یہ شرط لگائے کہ آئندہ فروخت  کرنے کی صورت  میں صرف مجھ پر فروخت کروگےتویہ بیع فاسد ہوگی،اور اگر صلب عقد میں یہ شرط نہ ہو بلکہ  خریدوفروخت کے بعد آپس میں  یہ وعدہ کریں  کہ فروخت کرنے کی صورت میں مشتری بائع پر فروخت کرےگا تو شرعا بیع جائزہوگی البتہ مشتری وعدہ کی پاسداری کرےگا۔         

 

قلت: وفي جامع الفصولين أيضا: لو ذكرا البيع بلا شرط ثم ذكرا الشرط على وجه العقد جاز البيع ولزم الوفاء بالوعد، إذ المواعيد قد تكون لازمة فيجعل لازما لحاجة الناس۔(ردالمحتار على الدرالمختار،مطلب في بيع بشرط الفاسد،ج:5،ص:84) 

إن ذكرا شرط الفسخ في البيع فسد البيع، وإن لم يذكرا ذلك في البيع وتلفظا بلفظ البيع بشرط الوفاء أو تلفظا بالبيع الجائز وعندهما هذا البيع عبارة عن بيع غير لازم فكذلك، وإن ذكرا البيع من غير شرط ثم ذكرا الشرط على وجه المواعدة جاز البيع ويلزم الوفاء بالوعد كذا في فتاوى قاضي خان۔(الفتاوى الهندية،كتاب البيوع،الباب العشرون،في البياعات المكروهة،ج :3،ص:196)


فتویٰ نمبر : 3023/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں