بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

5تولہ8ماشہ سونے پر زکوۃ


سوال

ایک عورت کے پاس کئ سالوں سے رسید کے مطابق  5 تولہ 8 ماشہ 3 رتی سونا ہے جب سنار نے چیک کیا تو بتایا کہ  سونا کے اندر 3 رتی کمی آئی ہے لہذا سونا 5 تولہ 8 ماشہ ہے۔ اب یہی سونا اگر اس کو سنار پر فروخت کرنا چاہے تو وہ اسکے اندر تقریبا ایک تولہ سونا کٹوتی کرواتا ہے اور وہ 5 تولہ 8 ماشہ کی بجائے 4 تولہ 8 ماشہ کی قیمت دیتا ہے اب سوال یہ ہے کہ اگر یہ سونا  اپنے پاس رکھا جائے تو  5 تولہ 8 ماشہ پر زکوۃ ادا کرنا ضروری ہے یا 4 تولہ 8 ماشہ پر؟

جواب

          اگر کسی کے پاس سونا یا چاندی یا نقدی ہو،لیکن نصاب کے بقدر نہ ہوں،تو ایسی صورت میں ان کو ملا کر دیکھاجائے گا کہ نصاب کو پہنچتے ہیں یا نہیں،اگر ان کو ملانے سے چاندی کا نصاب پورا ہوتا ہو تو زکوۃ واجب ہوگی ورنہ نہیں۔

           صورت مسؤلہ کے مطابق مذکورہ خاتون نے جب تک یہ سونا فروخت نہ کیا ہو تو شرعی طورپرعورت کی ملکیت میں 5تولہ8ماشہ سونا متصور ہوتا ہے ۔جو کہ سونے کا مکمل نصاب  نہیں ہے،البتہ یہ سونا چاندی کے نصاب کے تناسب سے ساڑھے انتالیس تولہ چاندی کے برابر ہے جب کہ چاندی کا نصاب ساڑھے باون تولہ ہے لہذا اگر مذکورہ خاتون کے پاس مزید تیرہ(13)تولہ چاندی یا اس کی قیمت ہو تو سال گزرنے کے بعد اس پر زکوۃ کی ادائیگی لازم ہوگی۔

 

 ويضم الذهب إلى الفضة،والفضة إلى الذهب،ويكمل إحدى النصابين بالآخر عند علمائنا،۔۔۔ثم قال أبوحنيفة:يضم باعتبار القيمة۔۔۔وقال أبويوسف،ومحمد:يضم باعتبار الأجزاء يعني بالوزن۔( الفتاوى التاتارخانية،كتاب الزكاة،ج:2،ص:174 )

ومنها كون المال نصابا،فلا تجب في أقل منه۔(الفتاوى الهندية،كتاب الزكوة،الباب الأول في تفسيرها وصفتها،ج:1،ص:172)


فتویٰ نمبر : 9141/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں