بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

بیٹے کا والد کی اجازت کے بغیر نکاح کرنا


سوال

اگر کسی پر نکاح فرض ہو اورنکاح نہ کرنے کی صورت میں گناہ میں پڑنے کا قوی اندیشہ  ہو لیکن والد صاحب نکاح نہیں کرواتا،ایسی صورت میں کیا بیٹا والد کی اجازت لیے بغیر نکاح کر سکتا ہے یا نہیں ؟

جواب

         واضح رہے کہ شریعت مطہرہ میں والدین کے ساتھ حسن سلوک اوران کی حد درجہ اطاعت کا حکم دیا گیا ہے ۔والدین چونکہ اپنی اولاد کے لیے خیر خواہ ہوتے ہیں ،اس لیےاگر نکاح کرنے میں والدین کی رضامندی کا لحاظ رکھا جائے تو یہ مستقبل کےلیے خیروبرکت اور سعادت کا باعث ہوتا ہے۔نیز والدین کی طرح دیگر تجربہ کار رشتہ داروں کی رائےکی رعایت بھی بہتر ہے،البتہ لازمی نہیں ۔اس لیے اگرسائل والد صاحب کی اجازت کے بغیر کسی لڑکی سےباقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں ایجاب وقبول کرکے نکاح کرے تو نکاح منعقد ہوگا۔

 

قال اللہ تعالی:وَوَصَّيۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ بِوَٰلِدَيۡهِ ‌حُسۡنٗاۖ۔(العنكبوت:8)

(‌وينعقد) ‌متلبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر۔ (ردالمحتارعلی الدرالمختار،کتاب النکاح ،ج:3،ص:9)

ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور ‌شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين ۔(الهدايه،كتاب النكاح،ج:2،ص:3)


فتویٰ نمبر : 6424/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں