بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

جانور اور گوشت متعین کیے بغیر اجتماعی قربانی کرنا


سوال

اجتماعی قربانی میں جانور متعین کیے بغیرلوگوں کو وزن کے اعتبار سے گوشت تول کرکے دیتے ہیں کیا اس صورت میں قربانی جائز ہوگی یا نہیں ؟

جواب

             رفاہی اداروں کا لوگوں کی جانب سے قربانی کی ادائیگی وکالت ہے اس لیے اس میں عقد وکالت کی تمام شرائط ملحوظ رکھنا ضروری ہے ،چنانچہ ادارہ وکیل کی حیثیت سے جانوروں کو خرید تے ہیں اور پھر مالکان کی طرف سے قربانی کرتے ہیں۔قربانی کے جانور خریدنے  میں عموما موکلین کی طرف سے کسی خاص اور متعین جانور کی خریداری ضروری قرار نہیں دی جاتی ،بلکہ ادارے کو مطلقا اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ مالکان کی طرف سے قربانی کریں اور جس طرح قربانی کا اختیار دیا جاتا ہے اسی طرح گوشت تقسیم کرنے کا بھی اختیار دیا جاتا ہے چونکہ گوشت کی تقسیم میں ولایت عام ہوتی ہے وہ جس کو دینا چاہے دے سکتے  ہیں اس لیے گوشت متعین کیے بغیر تقسیم کرنا اس کے لیے جائز رہتا ہے،نیز قربانی کرنے والوں کا اس میں  حصہ ہوتا ہےاس لیے اگر کوئی اپنے حصہ کے مطابق یااس سےکم  لینا چاہے تو لے سکتا ہے۔

 

لأن الوكيل يستغني عن اضافة العقد الي الموكل۔ (البناية،شرح الهداية،كتاب الوكالة،ج:9،ص:229)

رجل ضحى عن نفسه و عن أربعة من عياله خمس شياه و لم يعين كل واحد عن صاحبها عن أبي يوسف رحمه الله تعالى أنه يجوز عن الكل استحسانا۔(فتاوی قاضيخان علی هامش الهندية،ج:3،ص:351)


فتویٰ نمبر : 9177/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں