بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

حلالہ میں کنڈوم كا استعمال کرنا


سوال

کیا حلالہ میں مرد کے  کنڈوم استعمال کرنے سے عورت زوج اول کے لیے حلال ہوجاتی ہے یا نہیں؟

جواب

          واضح رہے کہ طلاقِ ثلاثہ کے بعد میاں بیوی کے لیے جو حرمتِ مغلظہ ثابت ہوتی ہے، اس کے ختم ہونے کے لیے  شرعاً تین چیزوں کا پایا جانا ضروری ہے:

1) )مطلقہ عدت کے بعد کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے۔

2) )صحتِ نکاح کے لیے شرعاً جو شرائط مقرر ہیں، دوسرے نکاح میں ان تمام شرائط کی رعایت رکھی گئی ہو ۔

3) )نکاح کے بعد دوسرا شوہر عورت سےازدواجی تعلق (ہم بستری) بھی کرےالبتہ ہم بستری کے دوران دوسرے شوہر کا صرف دخول کرلینا کافی ہے،انزال ضروری نہیں ہے ۔

         لہذا  صورت مسؤلہ میں کنڈوم کے استعمال سے حلالہ کے صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا صرف دخول کرنے سے حلالہ  ثابت ہوجاتا ہے۔

 

وأما الإنزال فليس بشرط للإحلال؛ لأن الله تعالى جعل الجماع غاية الحرمة۔(بدائع الصنائع:كتاب الطلاق،فصل في حكم الطلاق البائن،ج3،ص189)

وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز.أما الإنزال فليس بشرط للإحلال۔(الفتاوى الهندية:كتاب الطلاق،الباب السادس في الرجعة،فصل فيما تحل به المطلقة۔۔۔،ج1،ص473)


فتویٰ نمبر : 6419/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں