بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

بیٹی کے لیےرکھےہوئےزیورات پر زکوۃ


سوال

اگرلڑکی کی شادی کے لیےماں باپ نےزیورات رکھ لیے ہوں،توزکوۃکس کے ذمے لازم ہے؟

جواب

           شرعی نقطہ نظر سےوجوب زکوۃکے لیےعقل،بلوغ ،اسلام اورحولان حول کے ساتھ ساتھ ملکیت کا پایا جاناضروری ہے۔

           اس لیےصورت مسؤلہ کے مطابق شادی کے لیے رکھے ہوئےزیورات اگر لڑکی کے حوالےنہیں کیے،بلکہ ماں باپ کی ملکیت میں ہیں،تو ان کی مالیت کے اعتبار سےماں باپ پر زکوۃ واجب ہوگی،اور اگرنابالغ لڑکی کوزیورکا مالک بنا دیا تو اس کے لیےباپ کا صرف اتنا کہہ دیناکافی ہے کہ میں یہ زیور  اس لڑکی کوھبہ کرتاہوں اور اسی کے لیے قبول بھی کرتا ہوں اس سے بچی مالکہ بن جائےگی لیکن نابالغ ہونے کی وجہ سےاس پر زکوۃ واجب نہیں،اوراگر بالغ لڑکی  کوھبہ کرکےساتھ ساتھ قبضہ بھی دلایا تواگرنصاب کےبقدریازائدہو تو لڑکی کے ذمے زکوۃ واجب ہوگی۔

 

(وشرط افتراضها عقل وبلوغ۔۔۔(وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) ۔۔۔ (تام)۔(الدرالمختارمع  تنوير الابصار، كتاب الزكوة، ج:3، ص:173)

(هي) لغة الطهارة والنماء، وشرعا(تمليك) خرج الإباحة، فلو أطعم يتيما ناويا الزكاة لا يجزيه إلا إذا دفع إليه المطعوم۔۔۔ (جزء مال) خرج المنفعة،۔۔۔ وهذا معنى قول الكنز تمليك المال: أي المعهود إخراجه شرعا (مع قطع المنفعة عن المملك من كل وجه)۔(الدرالمختارمع تنويرالابصار، كتاب الزكوة، ج:3، ص:170) (وهبة من له ولاية على الطفل في الجملة)۔۔۔ (تتم بالعقد)(تنوير الابصار،كتاب الهبة، ج:5، ص:694)

اذا وهب شيالابنه الكبيرالبالغ العاقل يلزم التسليم۔(شرح المجلة لسليم رستم باز،الماده:۔85، ص:467)


فتویٰ نمبر : 9116/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں