بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

رخصتی سے پہلے بیوی سے ملنا


سوال

اگر کوئی شخص نکاح کے بعد رخصتی سے پہلے اپنی بیوی سے تنہائی میں کچھ وقت گزار دے اور دخول کہ علاوہ باقی بوس و کنار کر لے یا دخول   بھی کر لے تو کیا یہ اِن کی شب عروس  كهلائے گی اور اس پر رخصتی کا اطلاق ہوگا یا نہیں اور اسکے بعد ولیمہ کا کیا حکم ہوگا؟

جواب

            جب لڑکا اور لڑکی دو گواہوں کی موجودگی میں باقاعدہ ایجاب و قبول کر کے نکاح کر لیں تو وہ ایک دوسرے کے لیے حلال ہو جاتے ہیں یعنی اِن کا تنہائی میں ایک دوسرے سے بات کرنا، ملنا اور ہمبستری وغیرہ کرنا سب جائز ہو جاتا ہے، البتہ رخصتی سے پہلے تنہائی میں ملنا، ہمبستری وغیرہ کرنا عرف و معاشرے میں معیوب سمجھاجاتاہے، اس لیے اس سے اجتناب کرنا چاہیے، بسااوقات یہ بڑے فساد کاذریعہ بن جاتاہے۔ شبِ عروس کوئی شرعی اصطلاح نہیں ہے بلکہ عرف میں نکاح اور رخصتی کے بعد پہلی رات کو کہا جاتا ہے۔اِسی طرح مسنون ولیمہ وہ ہے جو میاں بیوی کے ملنے کے بعد ہو، کیونکہ اِس کا اصل مقصد ایک حلال اور جائز تعلق کااعلان و اِظہار ہے، جس رات بیوی کے ساتھ خلوت ہو اِس دن یا اگلے دِن ولیمہ کر لینا چاہیے، لیکن اگر کسی عذر کی وجہ سے تاخیر ہو جائے تب بھی سنت ادا ہو جائے گی، اِس لیے کہ بعض روایات سے چند دِن کے بعد ولیمہ کا ثبوت ملتا ہے۔

 

سمعت أنس بن مالك، قال: قدم عبد الرحمن بن عوف فآخى النبي صلى الله عليه وسلم بينه وبين سعد بن الربيع الأنصاري وعند الأنصاري امرأتان، فعرض عليه أن يناصفه أهله وماله، فقال: بارك الله لك في أهلك ومالك، دلوني على السوق، فأتى السوق فربح شيئا من أقط، وشيئا من سمن، فرآه النبي صلى الله عليه وسلم بعد أيام وعليه وضر من صفرة، فقال: «مهيم يا عبد الرحمن» ، فقال: تزوجت أنصارية، قال: «فما سقت إليها؟» قال: وزن نواة من ذهب، قال: «أولم ولو بشاة» (صحيح البخاري، رقم الحديث:5072)

(هو) عند الفقهاء (عقد يفيد ملك المتعة) أي حل استمتاع الرجل۔ (الدر المختار على صدر رد المحتار، كتاب النكاح، ج:4، ص:59)

ووليمة العرس سنة، وفيها مثوبة عظيمة وهي إذا بنى الرجل بامرأته ينبغي أن يدعو الجيران والأقرباء والأصدقاء ويذبح لهم ويصنع لهم طعاما۔ (الفتاوى الهندية، الباب الثاني عشر في الهدايا و الضيافات، ج:5، ص:422)


فتویٰ نمبر : 6417/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں