بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مکہ میں مقیم صحابہ کرام کی پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ عرفات میں نماز


سوال

مدینہ منورہ سےتشریف لاکرمسافرہوکرحضورصلی اللہ علیہ وسلم نےعرفات میں جمع بین الصلوتین قصرکرکےپڑھائی تو کیا مکہ مکرمہ کےمقیم صحابہ کرام نےبھی قصرپڑھی یاانہوں نے اتمام کیا،یہ اشکال بعض لوگ ظاہرکرتےہیں کیا اس کی کوئی دلیل ہے؟

جواب

         بقدر وسعت تلاش كرنے كے بعد  ہمیں کوئی ایسی دلیل نہیں ملی جس میں  اس بات کا تذکرہ ہو کہ مکہ مکرمہ میں مقیم صحابہ کرام  رضوان اللہ تعالی اجمعین  نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ  عرفات میں  قصر کیا تھا  یا اتمام؛البتہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک مرتبہ جب منی میں  نماز قصر کر کے پڑھائی  تو سلام پھرنے کے بعد لوگوں کی  طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا  کہ اے اہل مکہ تم لوگ اپنی نماز پوری کرو ہم مسافر ہیں اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اہل مکہ منی اور عرفات میں اتمام کیا کرتے تھے اور جمہور علماے کرام کا مذہب بھی یہی  ہے کہ جو لوگ مکہ مکرمہ میں مقیم ہیں  وہ منی عرفات  و مزدلفہ میں اتمام کریں گے۔

 

حديث بن عباس عند الترمذي وصححه النسائي خرج من المدينة إلى مكة لا يخاف إلا الله يصلي ركعتين كذا في الشرح قال الخطابي ليس في قوله صلى بنا ركعتين دليل على أن المكي يقصر الصلاة بمنى لأن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان مسافرا بمنى فصلى صلاة المسافر ولعله لو سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صلاته لأمره بالإتمام وقد يترك رسول الله صلى الله عليه وسلم بيان بعض المأمور في بعض المواطن اقتصارا على ما تقدم من البيان السابق خصوصا في مثل هذا الأمر الذي هو من العلم الظاهر العام وكان عمر بن الخطاب يصلي بهم فيقصر فإذا سلم التفت إليهم وقال أتموا ياأهل مكة فإنا قوم سفر وقد اختلف الناس في هذا فقال الشافعي يقصر الإمام والمسافر معه ويقوم أهل مكة فيتمون لأنفسهم وإليه ذهب سفيان الثوري وأحمد بن حنبل وهو قول أبي حنيفة وأصحابه وقد روي ذلك عن عطاء ومجاهد والزهري وذهب مالك والأوزاعي وإسحاق إلى أن الإمام إذا قصر قصروا معه وسواء في ذلك أهل مكة وغيرهم انتهى.(عون المعبود وحاشية ابن القيم،باب القصر لأهل مكة،ج:5،ص:308)

وقال أكثر أهل العلم، منهم عطاء والزهري والثوري والكوفيون وأبو حنيفة وأصحابه والشافعي وأحمد وأبو ثور: لا يقصر الصلاة أهل مكة بمنى وعرفات لانتفاء مسافة القصر.(عمدة القاري شرح صحيح البخاري،كتاب الصلوة،باب الصلوة بمنى،ج:7،ص:119)


فتویٰ نمبر : 9120/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں